بنگلورو،19؍اکتوبر(ایس او نیوز) کرناٹک میں ماہ نومبر کے دوران ڈگری کالجوں اور پوسٹ گریجویٹ کورسوں کی باضابطہ تدریس شروع ہونے کا امکان بہت کم نظر آرہا ہے۔
اس سلسلہ میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اشوتھ نارائن نے کہا ہے کہ اب تک یکم نومبر سے ڈگری اور پی جی کورسوں کے لئے باضابطہ کورسوں کی شروعات کے بارے میں فیصلہ نہیں ہو ا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20اکتوبر کو ا س معاملہ میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے انہوں نے ایک اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں ریاست میں کورونا وائر س کی تازہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ کالجوں میں باضابطہ کلاسوں کو شروع کیا جائے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے مسلسل رجحان کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کالجوں کی شروعات کے متعلق فیصلہ احتیاط کے ساتھ لینا طے کیا ہے، تاکہ جلد بازی میں لئے گئے کسی فیصلہ کے سبب طلباء کے لئے پریشانی نہ ہونے پائے۔انہوں نے کہا کہ فی الحال کلاسوں کی شروعات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ ماہرین سے مشورہ کے بعد وہ اس سلسلہ میں ریاست کے چیف سکریٹری کے ساتھ بھی میٹنگ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے کالج نومبر میں شروع کردینے کا فیصلہ ضرور کیا تھا لیکن موجودہ غیر یقینی صورتحال کے سبب جلدبازی میں کوئی فیصلہ نہیں لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فی الحال متعدد کالجوں کی طرف سے آن لائن کلاسوں کا سلسلہ چلایا جا رہا ہے لیکن موجودہ صورتحال سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ ان کلاسوں سے زیادہ فائدہ نہیں ہو سکا ہے۔ خاص طور پر وہ طلباء جو پروفیشنل کورسوں میں زیر تعلیم ہیں ان کے لئے حکومت کی طرف سے متبادل نظام کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔ وہ طلباء جو فائنل ایئر میں ہیں ان کے لئے ڈگری دینے کا مسئلہ ہے اور ساتھ ہی ان کے لئے ملازمت کا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے، حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ان کے بارے میں جلد فیصلہ کیا جائے۔