ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وجئے پورہ میں کانگریس اور بی جے پی نے طاقت کا مظاہرہ کیا سونیا اور مودی کا الگ الگ خطاب عام۔انتخابی مہم زوروں پر

وجئے پورہ میں کانگریس اور بی جے پی نے طاقت کا مظاہرہ کیا سونیا اور مودی کا الگ الگ خطاب عام۔انتخابی مہم زوروں پر

Thu, 10 May 2018 11:44:50    S.O. News Service

وجئے پور،8؍مئی(ایس او نیوز؍ رفیع بھنڈاری) وزیراعظم نریندر مودی اور اے آئی سی سی کی سابق صدر سونیا گاندھی کی آج وجئے پور آمد کے موقع پر الگ الگ خطاب عام کے ذریعہ بی جے پی اور کانگریس دونوں سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی طاقت کا بھاری مظاہرہ کرتے دیکھا گیا۔

ضلع میں دونوں سیاسی جماعتیں فی الحال برابر چل رہی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے یہاں سے15؍کلو میٹر دور سارواڑ میں دوپہر دیڑھ بجے جلسہ عام سے خطاب کیا جس میں تقریباً دیڑھ دولاکھ لوگ چلچلاتی دھوپ میں حاضررہے۔ اس موقع پر وجئے پور ضلع بی جے پی شاخ کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو بارویں صدی کے سوشیل رہنما اور بھگوان بسویشور کی تصویر بطور تحفہ پیش کرکے کروبا طبقہ کی علامت کالی کمبل ان کے کندھے پر پہنائی گئی۔

نریندر مودی نے اپنے خطاب عام میں بسویشور کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ریاستی کانگریس حکومت بسویشور کی تعلیمات اور اصولوں کی خلاف ورزی کررہی ہے اور سیاست کی خاطر بسویشور کے نام کے آڑ میں ووٹ حاصل کرنے لنگایت دھرم کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مرکزی حکومت کے علامتی اسکیموں کا تذکرہ کرتے ہوئے سدارامیا حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح الفاظ میں بتایا کہ ریاست کی عوام نہ صرف بی جے پی کو ریاست میں اقتدار سونپ دینے کا فیصلہ کرچکی ہے بلکہ سدارامیا کو جیل بھیجنے کی خواہش بھی رکھتی ہے۔ انہوں نے ضلع نگراں کار وزیر ایم بی پاٹل ،دھارواڑ کے وزیربرائے مائنس ونئے کلکرنی اور گلبرگی سے تعلق رکھنے والے میڈیکل ایجوکیشن کے سینئر شرن پرکاش پاٹل کا نام لئے بغیر ان تینوں ریاستی وزراء پر لنگایت طبقہ کوتقسیم کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ انہیں معلوم تک نہیں کہ بھگوان بسویشور کا پیغام کیاہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے آقاؤں نے کرناٹک میں یقینی شکست کو دیکھتے ہوئے ہار کا بہانہ تلاش کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں اور وہ ای وی ایم کو قصوروار ٹھہرانے کے لئے ابھی سے منصوبہ بنارہے ہیں۔

کرناٹک میں12 مئی کو ہونے والے اسمبلی الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کے حق میں آج یہاں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ریاست میں تو یہ صورت حال ہے کہ کانگریس کے رہنماؤں کو تو اپنے ’نامدار‘ رہنماؤں پر بھی بھروسہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک اسمبلی الیکشن میں شکست کو دیکھتے ہوئے کانگریس کے رہنماؤں نے لوگوں کے درمیان جانے کے بجائے یہ سوچنا شروع کردیا ہے کہ شکست کے لئے کیا بہانے تلاش کئے جائیں اور شکست کے لئے ای وی ایم کو الزام دینے کا ابھی سے منصوبہ بنارہے ہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کا نام لئے بغیر مسٹر مودی نے دونوں پر حملے کئے ۔ انہوں نے نام لئے بغیر کہا کہ کانگریس کے رہنما کہتے ہیں کہ کرناٹک میں بیٹے سے کچھ ہوناوالا نہیں ہے اس لئے ماں کو لانے سے شاید ضمانت بچ جائے ۔ یہی خاندانی سیاست کانگریس پارٹی کو ختم کررہی ہے ۔

مسٹر مودی نے خواتین کی سلامتی پر کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ووٹ بینک کی سیاست میں ڈوبی پارٹی آج بیٹیوں پر تقریر کررہی ہے لیکن اس نے مسلم بیٹیوں کے لئے تین طلاق قانون کو پارلیمنٹ میں منظور نہیں ہونے دیا۔ کانگریس خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کیسے کرسکتی ہے ۔ وہ خواتین کی سلامتی کے تئیں کبھی سنجیدہ نہیں رہی ۔ خواتین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے این ڈی اے حکومت نے سخت قوانین بنائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی کابینہ میں ایک بھی ایسا وزیر نہیں ہے جس پر بدعنوانی کا الزام نہیں لگا ہو۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہم بچوں کو پڑھائی ‘نوجوانوں کو کمائی اور بزرگوں کو دوائی کے منتر پر کام کررہے ہیں۔مرکزی حکومت نے کھانا پکانے میں خواتین کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے مفت گیس کنکشن اسکیم شروع کی اور اس کے تحت کرناٹک میں تقریباً دس لاکھ کنبوں کو مفت میں کنکشن دےئے گئے ۔


Share: