بنگلورو،26؍جولائی(ایس او نیوز) ریاست کے مرکز اقتدار ودھان سودھا میں صحافیوں کے داخلے پر پابندیاں عائد کرنے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کی پہل ہرطرف سے تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کل اعلان کیا تھاکہ سیکورٹی کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ودھان سودھا میں صحافیوں کے جابجا گھومنے اور بغیر اجازت کے وزراء کے دفاتر میں داخل ہونے کے سلسلے کو بند کیا جائے گا اور ان کے بیٹھنے اٹھنے ، وزراء ، حکومت اور افسروں کی طرف سے جانکاری کے لئے الگ سے انتظام کیا جائے گا۔ اس انتظام کے بعد کسی بھی حال میں صحافیوں کو وزراء کے دفاتر میں بغیر اجازت داخلے کا موقع قطعاً نہیں دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہاتھا کہ صحافی ہونے کا بہانے بناکر ودھان سودھا کے صحن میں کچھ دلال اپنا دھندہ چلارہے ہیں۔ ودھان سودھا کی سکیورٹی نے باضابطہ ان دلالوں کی نشاندہی کی ہے، ان کو ودھان سودھا میں داخلے سے روکا جائے گا۔ اب تک ودھان سودھا میں ریاستی محکمۂ اطلاعات کی طرف سے جا ری پاس کی بنیاد پر داخلہ ممکن تھا اور وہ کسی بھی سرکاری افسر یا وزیر سے ملاقات کرسکتے تھے، لیکن اب ریاستی حکومت کی طرف سے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ کوئی بھی صحافی ودھان سودھا میں داخل تو ہوسکتا ہے، لیکن وہ صرف ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں ہی رہے گا۔ صحافی اگر کسی وزیر سے بات کرناچاہتے ہیں تو اس کا پیغام وزیر کو پہنچایا جائے گا اور وزیر خود کانفرنس ہال پہنچ کر صحافیوں سے بات کریں گے۔ اس سلسلے میں و زیر اعلیٰ نے کل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت جاری کردی ، جس کے بعد اس نظام پر عمل بھی شروع ہوگیا۔
ریاست بھر میں صحافیوں نے وزیر اعلیٰ کے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ میڈیا سے اپنی ناراضی کے اظہار کے لئے وزیر اعلیٰ نے جو طریقہ اپنایا ہے وہ غلط ہے۔