اُڈپی، 22؍ جنوری (ایس او نیوز) سرکاری ویمنس کالج اُڈپی میں مسلم لڑکیوں کے حجاب پہننے کا معاملہ دن بدن گرماتا جارہا ہے اور اب کئی ادارے طالبات کے حق میں آواز بلند کرتے نظر آرہے ہیں، ایک طرف اُڈپی مسلم اوکوٹا کی طرف سے پرنسپل کی ہٹ دھرمی کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے طالبات کوسر پر اسکارف پہن کر کلاس میں داخلہ نہ دینے پر سخت مذمت کی گئی ہے تو وہیں کلبرگی رکن اسمبلی کنیز فاطمہ بھی طالبات کے حق میں سامنے آگئی ہیں اور اُڈپی کالج میں حجاب پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس درمیان این ایس یو آئی نے معاملے میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے پرنسپل کے خلاف ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرنے کا انتباہ دیا ہے۔
پتہ چلا ہے کہ معاملہ کو لے کر نیشنل اسٹوڈینٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے ریاستی نائب صدر فراق بیابے اور ریاستی سکریٹری ستابش شیوّنا نے اُڈپی پہنچ کرڈپٹی کمشنر ایم کورما راو سے ملاقات کی ہے اور ایک میمورنڈم سونپتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ طالبات کوسر کے اسکارف کے ساتھ کلاسس میں شریک ہونے کی اجازت دی جائے۔ اس موقع پر شیونّا نے بتایا کہ این ایس یو آئی اس معاملے کو لے کر ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے کیونکہ حجاب پہن کر کلاسس میں حاضر ہونا اُن کابنیادی حق ہے جس کو چھینا نہیں جاسکتا۔ مزید کہا کہ اُن کا احتجاج جائز ہے اور ہم اُن کو اپنا بھرپور ساتھ دیں گے۔
حجاب سے متعلق پیدا شدہ مسئلہ کو سلجھانے کے لیے جب این ایس یو آئی کا ایک وفد جمعہ کو کالج پہنچا تو کالج کے دفتر کو مقفل پایا جس پر وفد نے برہمی ظاہر کی۔اس موقع پر این ایس یو آئی کے جنرل سکریٹر ی بی شیونا نے کہا کہ کالج کے پرنسپل نے خود ان سے ملاقات کرتے ہوئے بات چیت کرنے مدعو کیا تھا، لیکن جب ہم یہاں پہنچے تو کالج پر تالا لگاہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یوں ہی جاری رہا تو این ایس یو آئی کی طرف سے اس معاملہ کے خلاف سخت احتجاج بھی کیا جائے گا۔
پتہ چلا ہے کہ اُڈپی سرکاری پی یو کالج کے چھ طلبا اور ایک لیکچرر کی کووڈ رپورٹ پوزیٹیو آنے کی وجہ سے کالج کو سات دنوں کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پوزیٹیو معاملات سامنے آنے کے بعد اُن کے پرائمری رابطہ میں آنے والے دیگر طلبہ اور لیکچررس کا بھی آرٹی پی سی آر ٹیسٹ لیا گیا ہے۔