نئی دہلی ، 13؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) جمعہ کو سپریم کورٹ نے ٹوئٹر، فیس بک پر جعلی خبروں اور اشتعال انگیز پیغامات کو روکنے کے لئے درخواست کی سماعت کی۔عدالت نے اس معاملہ میں مرکزی حکومت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وہ ایسا انتظام کریں تاکہ فیک خبروں اوراشتعال انگیز پیغامات پر قدغن لگایا جاسکے۔ فیک اکاؤنٹ پر بھی کارروائی لازمی بنائی جائے۔
نوٹس میں مرکزی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کو مجوزہ سوشل میڈیا ریگولیشن میں شامل کریں۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کے ذریعہ بی جے پی رہنما اور وکیل ونیت گوینکا کے مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے ملک میں گردش ہونے والی جعلی خبریں اوراشتعال انگیز پیغامات ٹویٹر اور سوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جارہے ہیں، یہ ملک کے اتحاد اور سا لمیت کے لئے انتہائی تباہ کن ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹویٹر نے اب تک 97فیصد اکاؤنٹس بلاک کردیئے ہیں، جہاں سے لال قلعہ میں ہونے والے تشدداور مخصوص پرچم کشائی کے بعد مرکز کے ایما پر جعلی خبریں، نفرت انگیز ہیش ٹیگز اور اشتعال انگیز مواد پھیلائے جارہے تھے۔ ذرائع کے مطابق مرکز نے ٹوئٹر کو ایسے 1435 اکاؤنٹس سے آگاہ کیا تھا۔ان میں سے 1398 اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں۔ یہاں 257 اکاؤنٹس بھی تھے جن کے ذریعے #farmer genocide (کسانوں کا قتل عام) جیسے ہیش ٹیگ چلائے جارہے تھے،ان میں سے 220 اکاؤنٹس کو ٹوئٹر نے بلاک کردیا ہے۔
جمعرات کے روز راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر اور فیس بک کو سخت انتباہ دیا تھا۔ کہا تھا کہ ہم سوشل میڈیا کا احترام کرتے ہیں۔ اس نے عام لوگوں کو طاقت بخشی ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا پروگرام میں بھی سوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، لیکن اگر یہ جعلی خبروں اور تشدد کو فروغ دیتا ہے تو پھر مجبوراً ہم کارروائی کریں گے۔ پھر وہ ٹویٹر ہو یا کوئی اور پلیٹ فارم۔ پرساد نے ایوان میں کہا تھا کہ ہم نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں کو ملکی قواعد و ضوابط سے آگاہ کردیاگیا ہے۔ ہم نے انہیں بتایا ہے کہ اگر ہم ہندوستان میں کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ہمارے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کیپٹل ہل (امریکی پارلیمنٹ) پر ہونے والے تشدد کے لئے الگ ضابطہ وضع کیا جائے، جب کہ لال قلعہ پر ہونے والے تشدد کے لئے کچھ اور اصول ہوں۔ الگ الگ ملک الگ پیرامیٹر ز ہمیں قطعی منظور نہیں۔یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا نئے قوانین کا اطلاق ممکن ہے یا نہیں؟۔