چھتیس گڑھ،05؍مئی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) پرانی کہاوت ہے کہ گاوں کے لوگ تکلیف سہنا جانتے ہیں ، لیکن بولنا نہیں جانتے۔ چھتیس گڑھ کے بلرام پور ضلع کے پٹنہ گاوں کے حالات دیکھیں تویہ بات صحیح سابت ہو تی ہے ۔ بلرام پور کے جگیما گرام پنچایت کے دیہی جانوروں کے ساتھ پانی پینے کو مجبور ہیں ۔
گاوں والے ندی کے کنارے ایک گڈھا گود کر پانی پیتے ہیں ۔ اور اسی گڈھے میں جانوربھی پانی پیتے ہیں ۔ جب گاوں میں ہینڈ پمپ کو لے کر سوال اٹھا تو گاوں والوں نے کہا کہ ہینڈ پمپ تو ہے لیکن اس میں گندا پانی آتا ہے ، اسیلئے انہیں ندی کا پانی پینا پڑتا ہے ۔ علاوہ ازیں دیگر کاموں کے لئے بھی وہ لوگ ندی کے پانی کا ہی استعمال کرتے ہیں۔
لیکن اس میں گندا پانی آتا ہے ، اسیلئے انہیں ندی کا پانی پینا پڑتا ہے ۔ علاوہ ازیں دیگر کاموں کے لئے بھی وہ لوگ ندی کے پانی کا ہی استعمال کرتے ہیں۔
گاوں کے نوجوان بتاتے ہیں کہ گرمی سے زیادہ بارش کے وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کیوں کہ اس وقت ندی کا پانی زیادہ گندہ ہوتاہے ۔ پانی لانے میں بھی پریشانی ہوتی ہے ۔ گاوں کی بہنی اور کلاوتی کے مطابق ان کے گاوں کے سبھی لوگ ندی کا ہی پانی پیتے ہیں۔
گندا پانی پینے سے لوگ بیمار بھی پڑ جاتے ہیں ۔ گاوں کی خواتین کہتیں ہے کہ یہ مسئلہ تو ہے لیکن سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ الزام ہے کہ انتظامیہ صحیح سے کام نہیں کرتا ہے ۔ شائد اسیلئے ہی زمہداروں کو معلوم نہیں ہے کہ کون سے گاوں میں کیا پریشانی ہے ۔
بلرام پور کے جنپد پنچایت کے سی ای او سمدرسائے اور ایس ڈی ایم بی کجور کا کہنا ہے کہ انہیں پٹنہ گاوں کے پانی کی پریشانی کا پتہ ہی نہیں ہے ۔ اطلاع ملنے پر وہ اس کا حل نکالیں گے۔