ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / چنئی دنیا بھر کے پانی کا بحران والے شہروں میں نمبر 1، ٹاپ 20 میں دہلی۔ممبئی بھی شامل

چنئی دنیا بھر کے پانی کا بحران والے شہروں میں نمبر 1، ٹاپ 20 میں دہلی۔ممبئی بھی شامل

Wed, 26 Jun 2019 11:37:14    S.O. News Service

نئی دہلی، 26 جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ہندوستان کے کئی شہر اس وقت شدید پانی کا بحران سے گزر رہے ہیں،ان میں چنئی سب سے اوپر ہے۔چنئی میں پانی کے بحران کی سنگینی کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کئی کمپنیوں نے پانی کے مسائل کی وجہ سے ملازمین کے آفس آنے سے منع کر دیا ہے اور ’ورک فرام ہوم‘نافذ کر دیا ہے۔ٹائمز آف انڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق چنئی ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میں سب سے زیادہ پانی کا بحران والا شہر بن گیا ہے۔چنئی کے علاوہ کولکاتہ دنیا بھر میں دوسرا سب سے پانی کا بحران والا شہر ہے۔تیسرے نمبر پر ترکی کا شہر استنبول ہے۔چنئی کے علاوہ ہندوستان کے تین اور شہر ایسے ہیں جو دنیا کے شدید پانی کا بحران والے شہروں میں شامل ہیں۔رپورٹ میں ڈبلیوڈبلیوایف گلوبل واٹر سٹیوارڈشپ لیڈر الیکسز مورگن نے بتایا کہ دنیا کے پانی کا بحران سے دو چار 400 شہروں میں چنئی ٹاپ ہے۔2018 میں ان 400 شہروں پر تحقیق کیا گیا تھا۔ہندوستان میں چنئی کے علاوہ اور بہت سے شہر شامل ہیں جہاں شدید پانی کا بحران بنا ہوا ہے۔دنیا بھر کے ٹاپ 20 شہر، جو شدید پانی کا بحران سے گزر رہے ہیں اس میں کولکاتہ دوسرے نمبر پر ہے۔دنیا بھر کے ٹاپ 20 پانی کا بحران والے شہروں میں تہران چھٹے نمبر پر ہے۔جاپان کا جکارتہ ساتویں اور امریکہ کا لاس اینجلس آٹھویں نمبر پر ہے۔چنئی کے علاوہ ہندوستان سے ممبئی 11 ویں اور دہلی 15 ویں نمبر پر ہے۔

تحقیق کے مطابق پانی کا بحران سے دو چار شہروں میں زیادہ تر شہر دریاؤں کے کنارے آباد ہیں۔یہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور دریاؤں کے پانی کا زیادہ استعمال کیا گیا۔ساتھ ہی ان دریاؤں کے پانی کا استعمال بھی بے ترتیب انداز میں کیا گیا۔موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سیلاب اور خشک جیسے مسائل کا سامنا دنیا بھر کے کئی شہروں کے لوگوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔چنئی اور کولکاتہ جیسے شہروں میں مسلسل خشک ہیں،اس سے پانی کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ساتھ ہی 1970 سے اب تک دنیا بھر میں 35 پانی کے ذرائع خشک ہو چکے ہیں۔تحقیق کے مطابق جس رفتار سے جنگل ختم ہو رہے ہیں اس سے تین گنا زیادہ رفتار سے پانی کے ذرئع خشک ہورہے ہیں۔


Share: