نئی دہلی،13اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) یوم جمہوریہ کے موقع پر کاس گنج میں بھڑکے تشدد کے بعد ایک بار پھر15 اگست (یوم آزادی) کو ترنگا یاترا نکالنے کی تیاری ہے۔ معاملے کی سنجیدگی کودیکھتے ہوئے کاس گنج کے ایس پی شیوہری مینا نے ڈی جی پی دفترکو خط بھیج کراضافی فورس کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے سبب خفیہ ایجنسیوں کو الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
ایس پی کاس گنج شیوہری مینا نے بتایا کہ 15 اگست کو دوفریقوں کی طرف سے ضلع انتظامیہ سے ترنگا یاترا نکالنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ پولیس نے انتظامیہ سے اجازت نہیں دینے کی سفارش کی گئی ہے، جس سے شہر میں پہلے جیسا کوئی حادثہ نہ ہو۔
غورطلب ہے کہ وشو ہندو پریشد اوراکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے کارکنان کے ذریعہ نکالی جارہی موٹرسائیکل ریلی پر پتھراو کے بعد تشدد بھڑک اٹھی تھی۔ اس کے بعد ہوئی آتشزدگی اور فائرنگ میں ایک لڑکا چندن کی موت ہوگئی جبکہ دو دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
یوم جمہوریہ کے دن ترنگا یاترا کے دوران کاس گنج میں بھڑکے تشدد میں مارے گئے چندن گپتا معاملے میں پولیس نے نامزد ملزمین کی فہرست جاری کی تھی، جس کے بعد اس معاملے میں 117 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تشدد میں درج 5 ایف آئی آر کے تحت 36 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ 81 لوگوں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ کاس گنج تشدد کے دوران شہر میں آتشزدگی کی 7 ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی۔