ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں ایک بار پھر انسانیت ہوئی شرمسار، کہیں سائیکل پر لے جائی گئی لاش، تو کہیں بیٹے نے باپ کی لاش لینے سے کیا انکار

کرناٹک میں ایک بار پھر انسانیت ہوئی شرمسار، کہیں سائیکل پر لے جائی گئی لاش، تو کہیں بیٹے نے باپ کی لاش لینے سے کیا انکار

Sun, 23 Aug 2020 12:07:53    S.O. News Service

بنگلورو،23؍اگست (ایس او نیوز)  جب سے کورونا وباء عام ہونے کی بات سامنے آئی ہے، ایسا لگ رہا ہے کہ کورونا کے ڈر اور خوف سے لوگ انسانیت کو بھول رہے ہیں، ہمدردی، غم خواری، غمگساری، رحم دلی  ان تمام اقدار سے لوگ منہ موڑ رہے ہیں۔ یہ بات اس لئے کہنی پڑ رہی ہے کیونکہ  ریاست میں حالیہ دنوں میں پیش آئے چند واقعات پوری انسانیت کو شرمسار کردینے والے ہیں۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بنگلورو کے KIMS اسپتال میں ایک لاش 22 دنوں تک رکھی گئی جس کی  وجہ یہ بتائی گئی  کہ  بیٹے نے باپ کی لاش لینے سے انکار کردیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ چامراج پیٹ کے 63 سالہ شخص کی کورونا کے سبب 22 دن قبل موت واقع ہوئی تھی۔ اسپتال والوں نے باپ کے انتقال کی خبر بیٹے کو دی۔ بیٹے نے جواب میں کہا کہ میں اسپتال آ رہا ہوں۔ ایک دن گزرا، دودن گزرے، لیکن بیٹے کا کوئی اتا پتہ نہیں، پھر اسپتال والوں نے بیٹے کو فون کیا اور باپ کی لاش، آخری رسومات کیلئے لے جانے کی درخواست کی۔

باپ کے اسپتال میں بھرتی کئے جانے کے بعد بیٹے کو ڈیڑھ لاکھ روپئے کا بل ادا کرنا تھا، پیسے ادا کرنے کی بات تو دور رہی، بیٹے نے اسپتال پہنچ کر باپ کی لاش لینا ہی ضروری نہیں سمجھا۔ اسپتال والے بار بار فون کرتے رہے، اسپتال کے فون سے تنگ آکر بیٹے نے اسپتال کا نمبر ہی بلاک کردیا۔  22 دن گزر جانے کے باوجود بیٹا یا پھر مہلوک  شخص  کا کوئی بھی رشتہ دار  لاش لینے کیلئے نہیں پہنچا تو اسپتال انتظامیہ نے لاش کو مقامی ایم ایل اے ضمیر احمد خان کی ٹیم کے حوالے کردیا۔

یاد رہے کہ چامراج پیٹ کے رکن اسمبلی  ضمیر احمد خان نے اپنے اسمبلی حلقہ میں کورونا سے ہونے والی اموات کی تدفین کیلئے رضاکاروں کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو  کورونا  سے مرنے والوں کی لاشوں کو ان کے مذہب کے مطابق تدفین یا آخری رسومات انجام دینے کی خدمت کر رہی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ  اس ٹیم نے اب تک 300 سے زائد کورونا کی لاشوں کی تدفین کی ہے۔ آخرکار KIMS اسپتال میں 22 دنوں سے بے یارو مددگار پڑی لاش کی ضمیر احمد خان کی ٹیم نے آخری رسومات انجام دیں، جو انسانیت کی ایک عظیم خدمت سمجھی جائے گی۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق لاش کی بےحرمتی  کا ایک اور واقعہ اسی ہفتہ کرناٹک کے بلگام ضلع میں پیش آیا جہاں کے کتور تعلقہ کےگاندھی نگر میں ایمبولینس کے نہ ملنے پر سائیکل پر لاش کو لے جانے کا دل دہلانے والا واقعہ رونما ہونے کی بات سامنے آئی۔ بتایا گیا ہے کہ یہاں کورونا کی علامات میں مبتلا ایک شخص کو اسپتال میں بھرتی کیا جانا تھا۔ لیکن اسپتال لے جانے سے قبل ہی گھر میں اس مریض کی موت ہوگئی۔ کورونا کا شبہ ہونے کی وجہ سے دیہات والے آخری رسومات کیلئے آگے نہیں آئے۔ گھر والوں نے مقامی سرکاری اسپتال کو مریض کے انتقال کر جانے کی اطلاع دی اور لاش کو آخری رسومات کیلئے لے جانے کیلئے فوری طور پر ایمبولینس بھیجنے کی درخواست کی۔ گھر والے صبح سے لیکر شام تک ایمبولینس کے آنے کا انتظار کرتے رہے۔ لیکن مقامی سرکاری اسپتال کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ آخرکار جب  ایمبولینس نہیں پہنچی تو گھر والے سائیکل پر لاش کو لادکرلے جانے پر مجبور ہوئے۔ مقامی ہیلتھ ورکروں کی مدد سے لاش کو سائیکل کے پچھلے حصے پر باندھ کر آخری رسومات کیلئے لے جایا گیا۔ بارش کے درمیان سائیکل پر لاش کو لے جانے کا ویڈیو جب وائرل ہوا تو ہر جانب سے ضلع انتظامیہ اور حکومت کی زبردست تنقید ہوئی۔

اس واقعہ پر کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیو کمار نے سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا  کہ کیا حکومت سو رہی ہے۔حکومت کی ایمبولینس سروس کہاں گئی۔ کورونا سے مرنے والوں کی بے عزتی کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

 واضح رہے کہ کرناٹک میں کورونا کی لاشوں کے ساتھ بے ادبی، بدسلوکی کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے چند دنوں قبل حکومت نے نئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں۔ ان گائڈ لائنس کے مطابق اسپتال والوں کو چاہئے کہ وہ کورونا کی لاشوں کو باعزت طریقہ سے رشتہ داروں کے حوالے کریں۔ قبرستان یا شمشان گھاٹ کی کمیٹیاں بغیر کسی رکاوٹ کے کورونا کی لاشوں کی تدفین یا آخری رسومات کے کام کو انجام دیں۔ اس طرح انسانیت اور ہمدردی کی بنیاد پر حکومت نے کئی اہم ہدایات جاری کی ہیں، لیکن ان ہدایات کا اثر سرکاری عملہ یا  عوام پر ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ کورونا کی لاشوں کے ساتھ ہوئی بے ادبی، بد سلوکی کے  تازہ واقعات کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ اس پورے معاملے میں عوام اور حکومت دونوں سے کوتاہی اور لاپرواہی برتی جارہی ہے۔


Share: