بھٹکل 17 اپریل (ایس او نیوز) کرناٹک کے شہر ہبلی میں سوشیل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز مسیج پوسٹ کرنے کے الزام میں ایک طرف ہبلی پولس نے ایک شخص کو گرفتار کیا وہیں متنازعہ پوسٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے قریب سو لوگوں کو بھی پولس نے گرفتار کرلیا جس کے بعد ہبلی میں حالات کشیدہ بنے ہوئے ہیں اور حالات پر قابو پانے کے لئے یہاں پولس کی زائد فورس تعینات کی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مدینہ منورہ کی مسجد نبوی کے فوٹو کو ایڈیٹ کرکے مسجد کے اوپر بھگوا جھنڈا لہرانے کی فوٹو کسی نوجوان نے سوشیل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا، جس پر ناراض سینکڑوں مسلما ن سنیچر دیر رات اولڈ ہبلی پولس تھانہ کے باہر جمع ہوگئے۔ واقعے پر فوری کاروائی کرتے ہوئے پولس نے متعلقہ نوجوان کو متنازعہ فوٹو پوسٹ کرنے اور مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ پولس کے اعلیٰ حکام نے احتجاج کرنے والے مسلمانوں سے کہا کہ وہ اب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں ، ہم متعلقہ نوجوان کے خلاف سخت کاروائی کریں گے، مگر مسلمان واپس جانے کے بجائے تھانہ کے باہر ہی جمع ہوکر گرفتار نوجوان کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دوران کسی نے پولس پرپتھر پھینک دیا، جس کو لے کر پولس نے لاٹھی چارج شروع کردی۔ لاٹھی چارج میں متعدد احتجاجیوں کو چوٹیں آئی ہیں، جبکہ پولس کا کہنا ہے کہ پتھراو کے نتیجے میں ایک انسپکٹر سمیت 12 پولس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ہجوم پر قابو پانے کے لئے پولس نے یہاں آنسوگیس کے گولے بھی داغے، بعد میں احتجاجیوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔
انجمن اسلام ہبلی کے نائب صدر الطاف نواز کِتّور نے ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حالات پر قابو پالیا گیا ہے اور ہبلی میں پولس کی زائد فورس تعینات کیا گیا ہے، البتہ ایک شخص کے اشتعال انگیز پوسٹ کے بعد سینکڑوں لوگوں نے پولس تھانہ کا گھیراو کیا تھا، جس کے بعد پتھراو اور توڑ پھوڑ کی وارداتیں ہوئی، جس میں ایک پولس جیپ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشتعال انگیز فوٹو اور مسیج پوسٹ کرنے کے الزام میں پولس نے متعلقہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے، مگر احتجاج کررہے قریب سو مسلمانوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔
اس ضمن میں انجمن اسلام کے صدر محمد یوسف سونور نے پورے واقعہ کو منصوبہ بند قرار دیا ہے انہوں نے بتایا کہ نامعلوم لوگوں نے پولس سمیت مسلم لیڈران پر بھی پتھراو کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈی پمپ سرکل پر پہلے لائٹ بند کی گئی، پھر تھوڑی دیر بعد لائٹ واپس چالو ہوگئی، اس کو پہلے کس نے بند کیا تھا اور واپس کس نے چالو کیا تھا، ان سب کے پیچھے کون ہے، اس کی چھان بین ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک ایک مقدس مہینہ ہے، اس ماہ میں مسلمان عبادتوں میں مشغول ہوتے ہیں، ایسے میں معاشرے میں امن قائم رہنا چاہیے۔ تمام ذات پات کے مذاہب ایک جیسے ہیں، ایسے میں ہمیں امن او ر بھائی چارگی کے ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کورونا کی وجہ سے ہمارا حال بے حال ہے او رلوگوں کو پانی اور اناج کی ضرورت ہے، انہوں نے تمام مذاہب کے لوگوں سے امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ محمد یوسف کے مطابق پولس تھانہ کے باہر جو پتھراو کیا گیا، انہوں نے سوال کیا کہ اتنی بڑی مقدار میں پتھر کہاں سے لائے گئے تھے، یہ پتہ لگانا چاہئے۔ واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریٹائرڈ پولس آفسر اور حال ہی میں عام آدمی پارٹی میں شامل ہونے والے بھاسکر راو نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ پولس کو فری ہینڈ دے، مگرحکومت ایسا کرنے کے بجائے ارکان اسمبلی اور وزراء کو اشتعال انگیز بیانات دینے کے لئے چھوٹ دیتی ہے، جس سے حالات پر قابو پانے میں پولس کو دشواری پیش آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اداروں میں ہاتھ ڈالنے وہ اپنی مرضی کے مطابق پولیس افسران کو تعینات کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ لاکھوں روپیہ لے کر اگر پولس آفسران کو ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا تو ڈسپلن کیسے بحال رہے گی ؟