بنگلورو،16؍دسمبر (ایس او نیوز) بہارا ور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں سے متعلق سنا اور اخباروں میں پڑھا جاتاتھا کہ لجس لیچر کے اراکین کے درمیان ہاتھاپائی ہوئی۔ ایوان میں توڑ پھوڑ مچائی گئی۔ بالکل ایسی ہی گڑ بڑ اور ہاتھا پائی آج ریاستی قانون ساز کونسل میں آج دیکھی گئی۔ چند بلوں بالخصوص انسداد گؤکشی بل کو منظورکرنے اور ریاستی کونسل کے موجودہ چیرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے حکمران بی جے پی نے ریاستی گورنر پر دباؤ ڈال کر آج کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کیاتھا۔ اجلاس شروع ہونے بل بجنے لگی۔ ایوان میں اراکین کونسل چیرمین کے آنے کا انتظارکررہے تھے۔
کونسل چیرمین پرتاپ چندراشٹی اپنے دفتر میں موجود بھی تھے۔ بل بج ہی رہی تھی کہ اچانک ڈپٹی چیرمین دھرمے گوڑا چیرمین کی سیٹ پر جاکر بیٹھ گئے جس پر کانگریس اراکین نے اعتراض کرتے ہوئے اس کو غیردستوری قرار دیا۔ اجلاس کے پہلے دن چیرمین ایوان میں آنے کے لئے تیار تھے۔ ان کا انتظارکئے بغیر ڈپٹی چیرمین کا چیرمین کی کرسی پر جاکر بیٹھ جانا کانگریس اراکین کو ناگوار لگا۔ کرسی سے اٹھ جانے کے لئے ان سے درخواست کی گئی۔ اتنے میں حکمران بی جے پی کے اراکین اور کانگریس اراکین چیرمین کے پوڈیم پر چڑھ گئے۔ پورے ایوان میں شور وغل شروع ہوگیا۔ اس دوران ڈپٹی چیرمین کو زبردستی کرسی سے اٹھاکر ان کی کرسی کے پاس لاکر زمین پر گرادیاگیا۔ اس شور وغل کے درمیان بی جے پی اراکین نے چیرمین کے پوڈیم سے چند دستاویزات اٹھاکر پھاڑ ڈالے اس سے قبل چیرمین کے پوڈیم پر کورونا سے محفوظ رہنے کے لئے رکھا ہوا گلاس اٹھاکر پھینک دیاگیا۔
اس دوران کانگریس اور بی جے پی اراکین کے درمیان نہ صرف لفظی جھڑپ دیکھی گئی بلکہ شور شرابے کے دوران کانگریس اراکین نے کانگریس کے راج شیکھر پاٹل کو لے جاکر چیرمین کی کرسی پر بٹھادیا جس پر بی جے پی اراکین نے کافی شور وغل مچایا۔ اس پورے ڈرامہ اور شور شرابے کے دوران جے ڈی ایس کے اراکین خاموش تماشائی بنے رہے۔ اس دوران اندر سے ایوان کے دروازے بند کردیئے گئے تھے چند کانگریس اراکین جن میں نصیر احمد بھی شامل ہیں ایوان سے باہر ہی رہ گئے تھے۔ ان تمام کو زبردستی ایوان میں گھس کر آنا پڑا۔ چیرمین کے اندر آنے کا بھی دروازہ کچھ دیر بند کردیاتھا۔ کانگریس اراکین نے اس دروازہ کو زبردستی کھلوایا۔20؍پچیس منٹوں کے اس شور وغل اور ہاتھاپائی کے بعد چیرمین پرتاپ چندرشٹی ایوان میں داخل ہوئے اور اپنی کرسی پر بیٹھے بھی نہیں کھڑے ہوکر ہی ایوان کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرکے باہر نکل گئے۔ اس کے بعد بھی ایوان میں اراکین کے درمیان شوروغل جاری رہا۔ چیرمین کی کرسی پر کوئی تیسرا آکر نہ بیٹھ جائے اس لئے مارشلزنے چاروں طرف سے کرسی کو گھیر رکھاتھا۔
کونسل میں ہونے والے اس پورے ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس کے اراکین نے اس ہنگامہ کی تیاری پیشگی ہی کررکھی تھی کیونکہ گھنٹی بجنے سے پہلے ہی بی جے پی اور جے ڈی ایس کے اراکین ایوان میں داخل ہوکر اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے لیکن کانگریس کے چند اراکین ہی ایوان میں داخل ہوئے تھے۔ پچھلے سیشن کے دوران ہی بی جے پی نے جے ڈی ایس کی تائید سے چیرمین شٹی کے خلاف کونسل میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن چیرمین نے اسمبلی کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کئے جانے خبر سن کر انہوں نے بھی اچانک کونسل اجلاس کو غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیاتھا۔ اس کے بعد بی جے پی نے گورنر پر دباؤ ڈال کر آج کا اجلاس طلب کیاتھا۔
کانگریس اور جے ڈی ایس کے سمجھوتہ ہی سے کانگریس سے چیرمین اور جے ڈی ایس سے ڈپٹی چیرمین ایس ایل دھرمے گوڑا کو منتخب کیاگیا تھا۔ اب جے ڈی ایس اس اتحاد کو برقرار نہیں رکھنا چاہتی اور بی جے پی چیرمین کو ہٹانا چاہتی ہے تو یہ سب قانون کے تحت کیا جاسکتا تھا۔ موجودہ چیرمین ہی کی چیرمین شپ میں اجلاس کی کارروائی کو آگے بڑھاکر ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے ان کو چیرمین کی کرسی سے ہٹایا جاسکتا تھا لیکن اس معاملہ میں بی جے پی اور جے ڈی ایس نے جلد بازی کی۔ نتیجہ ہم تمام کے سامنے ہے اور کرناٹک قانون ساز کونسل کا نام پورے ملک اور دنیا بھر میں بدنام ہواہے۔ آج کا ہنگامہ کرناٹک کونسل کی تاریخ میں ایک بدنما داغ ہے۔ اجلاس کے بعد بی جے پی لجس لیٹرس پر مشتمل وفد نے ریاستی گورنر سے ملاقات کرکے انہیں ایوان میں ہوئے ہنگامہ سے آگاہ کیا اور ایک عرضداشت بھی پیش کیا۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ چیرمین کو ہٹانے اور انسداد گؤکشی بل کونسل میں منظور کروانے بہت جلد پھر کونسل کا خصوصی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔