ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیجریوال کے ’ہندو-مسلمان‘ والے بیان پر الیکشن کمیشن میں شکایت

کیجریوال کے ’ہندو-مسلمان‘ والے بیان پر الیکشن کمیشن میں شکایت

Sun, 28 Apr 2019 11:38:48    S.O. News Service

نئی دہلی،28؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کانگریس نے عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال کے خاص طبقہ کے لوگوں سے پارٹی کو ووٹ نہیں دینے سے متعلق بیان کو سماج کو تقسیم کرنے والا قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے کیجریوال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کیجریوال نے پارٹی کا انتخابی منشور جاری کرتے وقت کہا تھا کہ کوئی بھی ہندو کانگریس کو ووٹ نہیں دینے جا رہا ہے صرف مسلمانوں میں تھوڑا بہت کنفیوزن ہے۔

کانگریس کی طرف سے الیکشن کمیشن کو ایک میمورینڈم سونپ کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ سندیپ دکشت کی قیادت میں کانگریس کے ایک وفد نے دہلی کے چیف الیکشن کمشنر کو مکتوب سونپا۔ ہریانہ کانگریس اقلیتی سیل کے سربراہ اورنگزیب علی خان بھی وفد کے ساتھ موجود رہے۔

کانگریس پارٹی کی طرف سے الیکشن کمیشن کو سونپے گئے میمورینڈم میں کہا گیا ہے کہ کیجریوال فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹ مانگ رہے ہیں اور لوگوں کو بانٹ رہے ہیں، لہذا یوگی آدتیہ ناتھ اور مایاوتی کی طرز پر ان کے تشہیر کرنے پر بھی روک لگائی جانی چاہئے۔

کمیشن کو اس سلسلہ میں دئے گئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ کیجریوال کا بیان سماج کو ذات اور کمیونٹی کی بنیاد پر تقسیم کرنے والا ہے اور ان کے خلاف انتخابی تشہیر کرنے پر فوری طورپر روک لگائی جانی چاہئے۔ کیجریوال نے کہا تھا کہ ’دہلی میں کوئی ہندو کانگریس کو ووٹ نہیں دے گا اور مسلمان الجھن میں ہیں۔ وفد میں شامل اورنگزیب نے کہاکہ ایسا بیان دیکر کیجریوال ایک خاص طبقہ کو دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے سماج میں دراڑ پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح کا بیان دینے والے لوگوں کو خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے تو ا س سے ان کا ْحوصلہ بڑھے گا اس لئے کیجریوال کے خلاف دہلی میں الیکشن مکمل ہونے تک تشہیر کرنے پر پابندی لگائی جانی چاہئے۔

کیا کہا تھا کیجریوال نے؟ ’’کوئی بھی ہندو کانگریس کو ووٹ نہیں دے رہا ہے، صرف مسلمانوں میں تھوڑا بہت کنفیوزن ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ دہلی کے ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، تمام ذات و مذاہب کے لوگ جو مودی-شاہ کی جوڑی سے ملک کو بچانا چاہتے ہیں وہ یکجا ہو کر عآپ کی حمایت کریں گے۔‘‘


Share: