نئی دہلی4جولائی (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) گؤ رکشا کے نام پر تشدد کرنے والوں کو روکنے کی ذمہ داری ریاستوں پر ڈالتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس طرح کی پرتشدد سرگرمیوں پر پابندی لگانے کے متعلق ہدایات کیلئے دائر درخواست پر آج سماعت مکمل کر لی۔
عدالت اس پر بعد میں فیصلہ سنائے گی۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس دھننجے وائی چندر چوڑ کے بنچ نے سخت الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی شخص قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔بنچ نے کہا کہ قانون و ا نتظامیہ کو مستحکم رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہر ریاست حکومت ہی ذمہ دار ہو گی۔
اس صورت میں سماعت کے دوران بنچ نے تبصرہ کیا کہ گؤ رکشا کے نام پر تشدد کے واقعات واقعتا ہجومی بھیڑ کی طرف سے برپا کئے جانے واقعات تشدد ہیں اور یہ جرم ہے۔ اضافی سالسٹر جنرل پی ایس نرسمہا نے کہا کہ مرکز اس مسئلہ کے تئیں بیدار ہے اور اس سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہم تشویش تو قانون بنائے رکھنے کی ہے۔بنچ نے کہا کہ کوئی بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا اور ایسے واقعات کی روک تھام کرنا ریاستی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے گزشتہ سال چھ ستمبر کو تمام ریاستوں سے کہا تھا کہ گؤ تحفظ کے نام پر تشدد کی روک تھام کے لیے سخت قدم اٹھائے جائیں۔
اس میں ہر ضلع میں ایک ہفتے کے اندر سینئر پولیس افسران کو نوڈل افسر مقرر کیا جائے اور ان عناصر پر مکمل روک لگائی جائے۔ اس کے ساتھ عدالت عظمیٰ نے راجستھان، ہریانہ اور اتر پردیش حکومتوں کے خلاف دائر درخواست پر ان ریاستوں سے جواب بھی طلب کیا تھا۔ یہ توہین پٹیشن مہاتما گاندھی کے پرپوتر تشار گاندھی نے دائر کی تھی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان تین ریاستوں نے عدالت کے چھ ستمبر 2017 کے احکامات پر عمل نہیں کیا ہے ۔