ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گئو کشی قانون کے غلط استعمال پر ہائی کورٹ کا اظہار تشویش، ملزم کو رہا کرنے کا حکم

گئو کشی قانون کے غلط استعمال پر ہائی کورٹ کا اظہار تشویش، ملزم کو رہا کرنے کا حکم

Mon, 26 Oct 2020 21:57:02    S.O. News Service

الہ آباد،26؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش میں گائے ذبیحہ کے قانون (گئو کشی قانون) کے مسلسل غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے گائے کے ذبیحہ اور گائے کا گوشت فروخت کرنے کے معاملہ میں ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے مشروط ضمانت پر ملزم رحمو عرف رحم الدین کی رہائی کا حکم دیا۔ جسٹس سدھارتھ کے سنگل بنچ نے یہ حکم دیا۔

عدالت نے کہا کہ جب بھی کوئی گوشت ضبط کیا جاتا ہے تو اسے گائے کا گوشت ظاہر کیا جاتا ہے اور فارینسک لیب میں نہیں کرائی جاتی ہے۔ ملزم رحم الدین کے خلاف شاملی کے تھانہ بھون علاقہ میں ایف آئی آر درج کروائی گئی لیکن ملزم کو جائے وقوعہ سے گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ ملزم رحم الدین 5 اگست 2020 سے جیل میں بند ہے۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے ریاست میں مویشیوں اور آوارہ گائیوں کے بارے میں بھی کئی اہم تبصرے کئے۔ عدالت عالیہ نے کہا، "کسی کو معلوم نہیں کہ گائیں پکڑے جانے کے بعد کہاں جاتی ہیں۔ دودھ نہ دینے والی گائیوں کو معاشرے پر بڑے پیمانے پر اثر ڈالتا ہے۔"


Share: