ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات کے کچھ ضلع میں کھدائی کے دوران 5ہزار سال پرانا قبرستان ملنے کادعوی، 250 سے زیادہ قبریں دریافت

گجرات کے کچھ ضلع میں کھدائی کے دوران 5ہزار سال پرانا قبرستان ملنے کادعوی، 250 سے زیادہ قبریں دریافت

Wed, 13 Mar 2019 23:21:43    S.O. News Service

کچھ،13 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گجرات کے کچھ ضلع میں کھدائی کے دوران پانچ ہزار سال پرانا قبرستان ملا ہے،یہاں قریب 250 قبروں میں لاش کے ساتھ مٹی کے برتن اور دوسری چیزیں رکھی گئی تھی۔گجرات میں یہ پانچ ہزار سال پرانے ہڑپایوگین تہذیب کا اب تک کا سب سے بڑا نکلنے والا قبرستان ہے۔کچھ ضلع میں گزشتہ دو ماہ سے کی جا رہی کھدائی کے بعد آثار قدیمہ کے ماہرین کوہڑپا تہذیب سے منسلک ایک وسیع قبرستان ملا ہے۔دھولاویر سے تقریبا 360 کلومیٹر دور اس جگہ پر 250 سے زیادہ قبریں ہیں جو تقریبا 5 ہزار سال پرانی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے اس بات کے امکان کو تقویت ملتی ہے کہ کسی وقت میں یہاں انسانوں کی اچھی خاصی آبادی رہائش گاہ ہوتی تھی۔کچھ کے لکھپت تعلقہ کے کھاٹیا گاؤں میںیہ کھودائی کچھ یونیورسٹی اور کیرالہ یونیورسٹی نے مل کرکی ہے۔اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہاں ملی 250 سے زیادہ قبریں قریب 4500 سے 5000 سال پرانی ہیں۔یہ قبرستان 300 میٹر پلس 300 میٹر سائز کا ہے،ان میں سے ابھی تک 26 قبروں کی کھدائی ہو چکی ہے،ان میں سب سے بڑی قبر 6.9 میٹر کی، جبکہ سب سے چھوٹی 1.2 میٹر ہے۔آثار قدیمہ کے ماہرین کو یہاں ایک قبر سے چھ فٹ لمبا ایک انسانی ہیکل ملا، جو تقریبا 5 ہزار سال پرانی ہے۔کچھ یونیورسٹی کے محکمہ آثار قدیمہ کے سربراہ سریش بھنڈاری نے بتایا کہ اس خول کو کیرل یونیورسٹی لے جایا گیا ہے، یہاں اس کی عمر، جنس اور موت کی ممکنہ وجوہات کا پتہ لگایا جائے گا۔گجرات میں پہلی بار دریافت قبرستان ملا ہے۔اس سے پہلے ملنے والے قبرستان کروی یا ارددھگولاکار سائز کے تھے،ان قبروں میں انسانی لاش کے علاوہ بچوں کی قبریں اور جانوروں کی باقیات ملے ہیں،کھدائی میں سی پی کی بنا کڑا، پتھر کی چکنائی ا اور پتھر کے بلیڈ بھی ملے ہیں۔


Share: