آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی کی لیگل یونٹ کی موجودگی میں صدر دہلی کلیم الحفیظ نے درج کرایا مقدمہ،میڈیا سے بات کرتے ہوئے’کہا وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اپنی قانونی ذمہ داری کے تحت گستاخ رسول کے خلاف کاروائی کریں‘
نئی دہلی، 30/ مئی (پریس ریلیز) گستاخ رسول نپور شرما (بی جے پی ترجمان)کے خلاف یہاں شاہین باغ تھانہ میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی پردیش کی لیگل یونٹ کی موجودگی میں صدر دہلی کلیم الحفیظ کی جانب سے ایف آئی آر درج کرائی گئی۔
شکایت درج کرانے کے بعد ایم آئی ایم صدر دہلی کلیم الحفیظ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ”بی جے پی کی ترجمان نپور شرما نے جو ہمارے آقا حضرت محمد ؐ کی شان میں گستاخی کی ہے اس کے خلاف آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی یونٹ کہ جس کے لیگل یونٹ کے انچارج ایڈوکیٹ مجیب الرحمن ہیں اور ایڈوکیٹ ہما کوثر، ایڈوکیٹ عامرعلی اور یہاں کے جو لوگ ہیں، ہمارے ساتھ شاہین باغ تھانے میں آئے۔
ہم نے نپور شرما کے خلاف شاہین باغ تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے اور ہماری وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ کہ جن کے انڈر میں دہلی پولیس آتی ہے، ان سے مطالبہ ہے کہ ایسی خاتون جس نے نہ صرف ہندوستان کے ۵۲/ کروڑ مسلمان بلکہ پوری دنیا کے دو سو کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی ہونی چاہئے،اس کی جگہ جیل میں ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ہماری وزیراعظم نریندر مودی سے دوسرا مطالبہ ہے کہ اس کو فوراً پارٹی سے برخاست کرکے، اس کے خلاف قانونی کاروائی کرکے یہ پیغام دیں کہ ہندوستان میں ابھی قانون کی بالا دستی ہے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے کیونکہ مسلمان اپنی جان سے زیادہ، اپنے والدین سے زیادہ اپنے نبی پاک ؐ سے محبت کرتا ہے اور اگر کوئی آپ کے خلاف کچھ بولتا ہے تو وہ ناقابل برداشت ہوگا۔ وہ اپنی جانوں تک کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔ لہٰذا اس گستاخی کو سنجیدگی سے لیا جائے اور جس طرح سے پہلے کہ جن وزراء نے ہمارے خلاف غلط بیانی کی اور ان کا پرموشن کر دیا گیا،کابینہ وزیر تک بنا دیا گیا،یا جو دیگر لیڈران ہیں بی جے پی کے کہ جنھوں نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا اور ان کو بی جے پی نے پرموشن دے دیا،ہم امید کرتے ہیں اس مرتبہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ اپنی قانونی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے نپور شرما کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کریں گے اور اس کو جیل بھجوانے کا کام کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے جس مقصد کے تحت لیگل سیل تشکیل دیا ہے اب اس کا آغاز ہو چکا ہے اور ان شا ء اللہ ہم اب پارلیمنٹ اور سڑک کے ساتھ ساتھ عدالت میں اپنی قانونی لڑائی بھی لڑیں گے۔