ہاویری 27/اکتوبر (ایس ا ونیوز)اعلیٰ ذات اور نچلی ذات کی تفریق کی وجہ سے ہاویری کے ایک گاؤں براڈی میں اس وقت ماحول کشیدہ ہوگیا جب وہاں کے حجاموں نے دلت ذات کے لوگوں کے با ل کاٹنے سے انکار کردیا۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ ذات کے کچھ لوگوں کے ساتھ دلتوں کا کسی مسئلے پر جھگڑا ہوگیاتھا۔ اس کے نتیجے میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کی طرف سے نائیوں پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ دلتوں کے بال نہ کاٹیں۔اس مسئلے پر دو دن قبل دونوں طبقات کے درمیان اس بات پر ٹکراؤ کے آثار پیدا ہوگئے اور براڈی میں پورے ایک دن تک تناؤ بنا رہا۔
ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کے جی دیوراج نے بتایا کہ اس معاملے کی اطلاع ملنے پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وجئے کمار سنتوش کے علاوہ ہاویری تحصیلدار جی ایس شنکر اور سوشیل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے افسران براڈی پہنچ گئے اور حالات پر قابو پانے کے لئے وہاں کے کمیونٹی ہال میں دونوں طبقات کے ساتھ پیس میٹنگ منعقد کی۔ڈی وائی ایس پی ایٹروسٹی مخالف قانون کے تحت ان لوگوں کے خلاف سخت قانونی کرنے کی وارننگ دی جو دلتوں کے بال کٹوانے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اور گاؤں کا امن وامان بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں۔انہوں نے وہاں پر موجود دونوں طبقات کے افراد سے گزارش کی کہ پرانے رسومات اور توہم پرستی کو ختم کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارگی کا رویہ اپناتے ہوئے زندگی گزاریں۔
نیگلور گاؤں کے رہنے والے اسٹیٹ مڈیگا مہاسبھا کے آرگنائزنگ سیکریٹری سنجے گاندھی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں بھی اس گاؤں میں دلتوں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے، جو بدقسمتی کی بات ہے۔انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں طبقات کے قائدین اس مسئلے کو حل کرنے پر راضی ہوئے ہیں۔ پھر آئندہ اس قسم کا واقعہ دہرایا نہیں جانا چاہیے۔
ڈی وئی ایس پی وجئے کمار نے بتایا کہ فی الحال براڈی میں نائی موجود نہیں ہیں۔اس لئے اب کاناولّی گاؤں کے نائیوں کو براڈی آکر اپنا کاروبار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس اور سرکاری افسران کی طرف سے دونوں طبقات کے لوگوں کے ساتھ افہام و تفہیم کے بعد گاؤں کا ماحول دوبارہ پرامن ہوگیا ہے۔