بنگلورو:27؍دسمبر(ایس اؤ نیوز) کورونا کے دوران بی ایس یڈیورپا کی قیادت والی بی جےپی کی حکومت قریب 40 ہزار کروڑ روپیوں کا گھوٹالہ کئےجانے کا بی جےپی رکن اسمبلی بسن گوڈاپاٹل یتنال نے راست الزام لگاتےہوئے ہمارے الزام کو ثبوت فراہم کیا ہے کہ بی جےپی کی حکومت 40فی صد کمیشن والی سرکار تھی۔ ریاستی وزیر اعلیٰ سدرامیانے ان خیالات کا اظہارکیا۔
فیس بک پر پوسٹ لگاتےہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا کےعلاج اور کنڑول کے نام پر یڈیورپا اور ان کی حکومت نے 40 ہزار کروڑ روپیوں کی بدعنوانی کئےجانے کے متعلق ہم نے پریس کانفرنس کے دوران ثبوتوں کےساتھ الزام لگایا تھا۔ اب بی جےپی کے رکن اسمبلی یتنال کے الزام پر غور کریں تو ہمارے اندازے سے بھی 10گنا زیادہ رشوت خوری محسوس ہوتی ہے۔انہو ں نے سوال اٹھایا کہ ہمارے الزام پر آگ بگولہ ہوکر ودھان سودھا میں پریس کانفرنس کرنےوالی وزراء کی ٹیم اب کہاں چھپ کر بیٹھی ہے۔ اپنے پوسٹ میں وزیر اعلیٰ نےلکھا ہےکہ بی جےپی کےرکن اسمبلی ’ہٹ اینڈ رن‘نہ کریں۔ اگر وہ چاہتےہیں کہ رشوت خوری اور بدعنوانی ختم ہوتو انہیں چاہئےوہ اپنے الزام کو ثابت کرنےتک لےجائیں ۔ بہتر ہوگا کہ ان کےپاس جتنے بھی ثبوت یا جانکاری ہے وہ سب ریٹائرڈ جج ناگ موہن داس کی قیادت میں تشکیل دی گئی جانچ کمیشن کو سونپیں۔
سدرامیا کے پوسٹ میں لکھاگیا ہےکہ بی جےپی کے رکن اسمبلی یتنال نے سابق وزیر اعلیٰ یڈیورپا اور ان کے بیٹے بی وائی وجئیندرا سمیت پچھلی حکومت کے چند وزراء کے خلاف مسلسل الزام تراشی کرتےآرہےہیں۔ اس رشوت خوری اور بدعنوانی مین شامل ریاست کے بی جےپی لیڈران اس معاملے میں خاموشی اختیار کرنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
اپنے پوسٹ کے آخر میں وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندرمودی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خود کو ملک کا ’چوکیدار ‘ جتانے والے اور وقفہ وقفہ سے ’نہ کھاؤنگا ، نہ کھانے دونگا‘کا اعلا ن کرنےو الے وزیرا عظم نریندر مودی ، اب اپنے ہی پارٹی کےلیڈر کی طرف سےعائد کئےگئے سنگین الزامات پر خاموشی اختیار کرنا تعجب ہے۔وزیر اعلیٰ نےاپنے پوسٹ میں وزیر اعظم سے سوال کرتےہوئےپوچھا ہے کہ’وزیر اعظم صاحب،ان سب الزامات سے کیا یہ شک پیدا نہیں ہوتاکہ ریاستی بی جےپی سرکار کی رشوت خوری میں مرکزی لیڈران بھی ملوث تھے یا انہیں اس کا حصہ ملا ہے؟۔