ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’نامدار۔کامدار‘،چوکیدار چور ہے، جیسی باتیں اب یاد ہو چکی ہیں راجستھان کے لوگوں کو

’نامدار۔کامدار‘،چوکیدار چور ہے، جیسی باتیں اب یاد ہو چکی ہیں راجستھان کے لوگوں کو

Sat, 01 Dec 2018 01:01:54    S.O. News Service

نئی دہلی،30؍ نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) راجستھان میں تقریبا دو ماہ سے انتخابی تشہیر چل رہی ہے اور لوگوں کو لیڈروں کے انتخابی تقریروں کی کچھ چیزیں اس طرح یاد ہو گئی ہیں کہ اجلاس میں موجود عوام پہلے ہی بھانپ لیتی ہے کہ نیتا جی آگے کیا بولنے والے ہیں۔الیکشن کمیشن نے راجستھان سمیت پانچ ریاستوں میں انتخابات پروگرام کا اعلان چھ اکتوبر کو کیاتھا۔اس میں سے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور میزورم میں تو ووٹنگ ہو چکی ہے جبکہ راجستھان میں انتخابی مہم پانچ دسمبر کی شام تک چلے گی یعنی تقریبا دو ماہ تک ریاست انتخابی رنگ میں رنگا ہوا نظر آئے گا۔ اتنی دیر میں بڑی تعداد میں عوامی جلسوں، ریلیوں اور روڈشو کے درمیان سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی باتیں بھی عوام کو یاد ہو گئی ہیں۔ریلیوں میں رہنماؤں کے بولنے سے پہلے ہی لوگوں کو پتہ ہوجاتا ہے کہ اب کیا بولا جائے گا۔’نامدار۔کامدار‘، راگ درباری۔راج درباری ‘، ’چوکیدار چور ہے‘ وغیرہ جیسے الفاظ ان میں شامل ہیں۔ انتخابی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھنے والے منیش کمار نے کہا کہ اتنا طویل وقت ہو گیا اور لیڈر اپنی ریلی میں ایک ہی بات دہراتے ہیں تو عوام کو یاد ہوجانا فطری بات ہے۔ ایک کارکن کے مطابق ریلیوں، عوامی جلسوں کے بعد رہنماؤں کی تقریر اخباروں میں چھپتے ہیں، ٹی وی اور وہاٹس اپ، فیس بک کی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی دہرائے جاتے رہتے ہیں اس لئے ان کی کہی باتیں لوگوں کو یاد ہوجاتی ہیں۔دیکھنے میں آیا ہے کہ تقریبا تمام رہنما گزشتہ دو ماہ سے اپنی تمام جلسوں میں اکثر ایک جیسی بات، ایک جیسے نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔جیسے وزیر اعظم نریندر مودی اپنی جلسوں میں کانگریس لیڈروں اور حامیوں کو ’راگ درباری‘ اور’راج درباری‘ بتاتے ہوئے کانگریس صدر (راہل گاندھی) کو ’نامدار‘ اور خود کو ’کامدار‘ بتاتے ہیں۔وہ راہل اور یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی کا نام لئے ’نامدار بمقابلہ کامدار‘ کا حوالہ اپنی تقریر میں کئی بار دے چکے ہیں۔ وہیں کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر شدید حملہ بولتے ہوئے سب سے پہلے ستمبر میں راجستھان میں ہی بولا چوکیدار چور ہے۔ان کے ہر تقریرمیں یہ جملہ کئی بار گوجتا ہے۔ان کی تقریر میں رافیل، سی بی آئی ڈائریکٹر تنازعہ کا ذکر بار بار ہوتا ہے۔راہل اکثر اپنی تقریر میں کم از کم ایک بار’ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ نوٹ بندی اور’گبر سنگھ ٹیکس۔جی ایس ٹی‘ کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔اسی طرح، بی جے پی صدر امت شاہ اپنی ہر جلسے میں ’آلیہ مالیہ جمالیا‘ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے ٹھیک بعد کہتے ہیں کہ بی جے پی بنگلہ دیشی دراندازوں کو ایک ایک کرکے ملک سے نکالے گی ۔ہر تقریر میں وہ کانگریس صدر کو ’راہل بابا‘کہہ کر بلاتے ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ہر اجتماع میں کانگریس کو ’بن دولہا بارات‘ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ تو یہ بھی فیصلہ نہیں کر پائی کہ اس کا وزیر اعلی کون ہوگا۔اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی تقریر ہندوتو پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ کہتے ہیں۔کانگریس جن دہشت گردوں کو بریانی کھلا رہی تھی ہم انہیں گولی کھلا رہے ہیں۔ دوسری طرف راجستھان کے سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت اور کانگریس کے ریاستی سچن پائلٹ کے نشانے پر سیدھے سیدھے وزیر اعلی وسندھرا راجے رہتی ہیں۔گہلوت اپنے ہر اجتماع میں کہتے ہیں کہ ’محلوں میں رہنے والی راجے اور ان کی حکومت کے اقتدار کا خاتمہ طے ہے۔وہ الزام دہراتے ہیں کہ راجے حکومت نے ریاست میں بجری مافیا، کان کنی مافیا اور دارو مافیا کو پنپنے دیا۔پائلٹ اپنے خطاب میں ایک بات ضرور کہتے ہیں کہ ریاست کی عوام ارادہ کرچکی ہے اور راجے کا بوریا بستر بدھنا طے ہے۔


Share: