ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 24؍ سالوں کے بعد جیل کی صعوبتوں سے راحت 74؍ سالہ محمد امین نے اشک بار آنکھوں سے جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا گلزار اعظمی اور وکلاء سے ملاقات کی

24؍ سالوں کے بعد جیل کی صعوبتوں سے راحت 74؍ سالہ محمد امین نے اشک بار آنکھوں سے جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا گلزار اعظمی اور وکلاء سے ملاقات کی

Mon, 13 Aug 2018 23:45:30    S.O. News Service

ممبئی،13؍اگست(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) 24؍ سالوں سے جیل میں مقید ایک ضعیف العمر مسلم شخص(74) کی 21؍ دنوں کی پرول پر رہائی کے بعد آج انہوں نے قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظم جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی اور وکلا ء انصار تنبولی اور شاہد ندیم سے دفتر جمعیۃ علماء میں ملاقا ت کرکے ان کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پر محمد امین کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے ۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق محمد آمین نے آج صبح گیارہ بجے دفتر جمعیۃ علماء پہنچ کر گلزار اعظمی کو شال کانذرانہ پیش کرتے ہوئے انہیں اور دیگر ملزمین کی پیرول رہائی کے لیئے کی جانے والی کوششوں کے لیئے شکریہ ادا کیا ہے نیز انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء نے ہی ان کے مقدمات کی پیروی سپریم کورٹ میں کی تھی جس کے لیئے بھی وہ ممنون ومشکور ہیں ۔

محمد امین نے نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ حکومت نے ٹاڈا قیدیوں کی پیرول پر رہائی کے لیئے روک لگا رکھی ہے اور انہیں صرف جمعیۃ علماء سے امید تھی کہ جمعیۃ ہی کی کوششوں سے انہیں راحت حاصل ہوگی اور ویسا ہی ہوا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء کے وکلاء نے وہ کام کردکھایا جوابتک دیگر وکلاء نہیں کرسکے تھے اور وہ کام ہے ٹاڈا کے قیدیوں کی پیرول پر رہائی ہے ۔

اس موقع پر محمد امین نے صدر جمعیۃعلماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی سے بھی فون پر گفتگو کی اور ان کا شکریہ ادا کیا نیز سپریم کورٹ اور جئے پور ہائی کورٹ میں پیرول پر رہائی کے تعلق سے اپنی خدمات پیش کرنے والے وکلا ایڈوکیٹ ارشاد حنیف، ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر کا بھی شکریہ ادا کیا ۔

1993جئے پور سلسلہ وار ٹرین بم دھماکہ معا ملہ کا سامنا کررہے محمد امین(مدن پورہ ممبئی) کو گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف انڈیا نے 21؍ دنوں کے لیئے پیرول پر رہائی کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد سنیچر کی شب اس کی جئے پور جیل سے رہائی عمل میںآئی ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ 21؍ دنوں پر پیرول رہا 94؍ سالہ ڈاکٹر حبیب بھی ان کے گھر پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے بھی بذریعہ فون جمعیۃ علما اور وکلاء کا شکریہ ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈین جیل قانون 1894 کے مطابق ان قیدیوں کو پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے جو جیل میں سزائیں کاٹ رہے ہیں اور وہ بیماری سے جوجھ رہے ہوں یا ان کی فیملی میں کوئی شدیدبیمار ہو ، شادی بیاہ میں شرکت کی خاطر، زچکی کے موقع پر، حادثہ میں اگر کسی فیملی ممبر کی موت ہوجائے تو جیل میں مقید شخص کو عارضی طور پر جیل سے رہائی دی جاتی ہے لیکن گذشتہ چند سالوں سے مرکزی و ریاستی حکومتوں نے ٹاڈا، پوٹا ودیگر قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کررہے ملزمین کو پیرول رہا نہیں کیئے جانیکا فیصلہ کیا تھا لیکن سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے بعد ٹاڈا ، پوٹا کے قیدیوں کو بھی راحت حاصل ہورہی ہے ۔


Share: