نئی دہلی ،9/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران ریکارڈ سطح تک پہنچنے والے خام تیل کی قیمتیں بدھ کو دوبارہ جنگ چھڑنے کے اندیشے سے قبل تک ۶؍ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں مگر ہندوستانی عام صارفین کو اس کا فائدہ نہیں پہنچنے دیاگیا۔ اس سلسلے میں سوالات پر پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری کا کہناتھا کہ جب تک جنگ کے دوران خریدے ہوئے مہنگے خام تیل کا اسٹاک ختم نہیں ہوجاتا، تیل کی قیمتیں نہیں گھٹائی جائیں گی۔ امید تھی کہ مہینے ڈیڑھ مہینے میں ہی سہی صارفین کو فائدہ پہنچ سکتاہے تاہم اب ایک بار پھر جنگ چھڑنے کے اندیشوں کی وجہ سے یہ امید ٹوٹ رہی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ کے بعد تیل کی قیمتوں میں آنے والی گراوٹ کے بعد ہندوستان کو ملنےوالے خام تیل کی قیمت کم ہو کر۶۸ء۶۹؍ ڈالر فی بیرل رہ گئی تھی جو جنگ کے دوران پہنچنے والی۱۵۷؍ ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے تقریباً۵۶؍ فیصد کم تھی۔ اس کے باوجود عام صارفین کو پیٹرول اور ڈیزل کی خردہ قیمتوں میں کوئی راحت نہیں دی گئی۔
ڈی اے ایم کیپٹل کے مطابق موجودہ قیمتوں پر تیل کمپنیاں پیٹرول پر تقریباً۱۰ء۵؍ روپے اور ڈیزل پر تقریباً۱۱؍ روپے فی لیٹر منافع کما رہی ہیں۔ یکم جون کے بعد سے خام تیل کی قیمت۸۷؍ ڈالر فی بیرل سے نیچے ہے۔ اس سطح پر تیل کمپنیاں نہ منافع نہ نقصان، یعنی بریک ایون پر رہتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کمپنیاں گزشتہ۳۶؍ دنوں سے مسلسل منافع میں ہیں۔۸؍اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان پہلی جنگ بندی کے بعد سے خام تیل کی قیمت۱۱۵؍ ڈالر فی بیرل سے نیچے رہی ہے۔
سال۲۰۱۸ء میں خام تیل کی قیمت۸۰ء۰۸؍ ڈالر فی بیرل تھی۔ اس وقت دہلی میں پیٹرول۷۲ء۱۵؍ روپے اور ڈیزل ۷۰ء۲۱؍ روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔ ۲۰۲۰ء میں خام تیل کی قیمت گھٹ کر۴۳ء۴۱؍ ڈالر فی بیرل تک گر گئی لیکن پیٹرول کی قیمت تقریباً۶۸ء۲۰؍ روپے فی لیٹر ہی رہی۔۲۰۲۲ء میں خام تیل کی قیمت۱۱۹؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جس کے بعد پٹرول ۹۶ء۷۲؍ روپے اور ڈیزل۸۹ء۶۲؍ روپے فی لیٹر ہو گیا۔ جنوری۲۳ء میں خام تیل دوبارہ۷۵؍ ڈالر فی بیرل تک آ گیا، لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تیل کمپنیوں کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہونے والے نقصانات کی تلافی کر رہی ہیں۔