نئی دہلی ، 13 /جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)سپریم کورٹ میں ملک بھر میں پیپر لیک کے بڑھتے ہوئے واقعات پر سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک مفادِ عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے۔ عرضی میں مرکزی حکومت، تمام ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور لاء کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پیپر لیک کے معاملات کی مقررہ مدت میں تحقیقات اور فوری سماعت کو یقینی بنانے کے لیے یکساں تفتیشی طریقۂ کار اور معیاری سوالنامہ تیار کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام ممکن ہو سکے۔
یہ عرضی وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پیپر لیک کے ملزمان اور اس جرم میں مبینہ طور پر ملوث ان کے اہلِ خانہ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کا مکمل جائزہ لیا جائے اور جہاں مناسب ہو وہاں انسدادِ بدعنوانی قانون، منی لانڈرنگ سے متعلق قانون، بے نامی جائیداد قانون اور کالے دھن سے متعلق قانون کی متعلقہ دفعات نافذ کی جائیں۔ عرضی کے مطابق ایسے جرائم سے حاصل کی گئی ناجائز دولت اور جائیداد کو ضبط کیا جانا چاہیے تاکہ اصل سرغنوں کے خلاف مؤثر کارروائی ہو سکے۔
عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بار بار ہونے والے پیپر لیک کے واقعات نے ملک بھر کے طلبہ اور ان کے خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بے شمار امیدوار مالی مشکلات، ذہنی دباؤ، تعلیمی اور روزگار کے مواقع سے محرومی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ بعض طلبہ نے مایوسی کے عالم میں خودکشی بھی کی۔ درخواست گزار کے مطابق متعلقہ حکام کی ناکامی کے باعث آئین کے تحت مساوات، سرکاری ملازمتوں میں مساوی مواقع اور زندگی و شخصی آزادی سے متعلق بنیادی حقوق مسلسل متاثر ہو رہے ہیں۔
عرضی میں 3 مئی 2026 کو ہونے والے قومی اہلیتی داخلہ (نیٹ) امتحان کے پیپر لیک کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق اس واقعے نے لاکھوں طلبہ کو متاثر کیا اور امتحانی جرائم سے نمٹنے کے موجودہ نظام کی کمزوریاں نمایاں کر دیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ امیدوار آج بھی اس کے نتائج بھگت رہے ہیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات اب تک نافذ نہیں کیے گئے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ عوامی امتحانات میں ناجائز ذرائع کی روک تھام سے متعلق قانون جون 2024 سے نافذ ہے، اس کے باوجود پیپر لیک کے واقعات میں کمی نہیں آئی اور اصل سرغنے اکثر قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔ عرضی کے مطابق موجودہ قانونی نظام میں بروقت تحقیقات، تیز رفتار مقدمات، یکساں تفتیشی طریقۂ کار، ناجائز دولت کا سراغ لگانے اور اسے ضبط کرنے جیسے اہم پہلوؤں کا فقدان ہے۔
عرضی میں سپریم کورٹ سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ پیپر لیک کے مقدمات میں دی جانے والی سزائیں بیک وقت چلنے کے بجائے یکے بعد دیگرے نافذ ہوں تاکہ ایسے جرائم کے خلاف سخت بازدار اثر پیدا ہو۔ متبادل طور پر عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ ہندوستان کے قانونی کمیشن کو مختلف ممالک میں رائج قوانین اور تفتیشی طریقوں کا جائزہ لینے اور تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی جائے۔