نئی دہلی،3جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) شیام ناتھ مارگ پر واقع بنگالی سینئر سیکنڈری اسکول کی انتظامیہ نے پچھلے کچھ دنوں سے اچانک اپنے لیٹر ہیڈ اور کاغذات پر خودکو ’’لسانی اقلیتی ادارہ‘‘ لکھنے لگا اور اس کا فائدہ اٹھاکر طلبہ اور اساتذہ کو رزرویشن دینے کا منصوبہ بنالیا۔اسکول میں پڑھنے والے طلبہ کے والدین نے اس کی شکایت دہلی اقلیتی کمیشن میں درج کرائی کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ اس سے اسکول کے معیار اور ماحول پر اثر پڑے گااور یہ کہ اسکول میں تدریس کے لئے صرف کچھ خاص لوگوں کا تقرر کرنے کے لئے ایسا دعوی کیا جارہاہے۔شکایت کی بنیاد یہ بھی ہے کہ ’’لسانی اقلیتی ادارہ‘‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ قانونی طور سے اقلیت صرف چھ متعینہ مذاہب کو ماننے والے ہیں اور انہی کے ذریعے قائم ہونے والے تعلیمی اداروں کو ’’اقلیتی ادارہ‘‘ ہونے کا سرٹیفکٹ نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز سے ملتا ہے۔ مزید برآں مذکورہ اسکول کو دہلی حکومت سے (۵۹) فیصد گرانٹ بھی ملتی ہے۔ اس سلسلے میں دہلی اقلیتی کمیشن نے مذکورہ اسکول کے پرنسپل اور ڈائرکٹر آف ایجوکیشن دہلی کو نوٹس دے کر پوچھا ہے کہ کیا’’لسانی اقلیتی ادارہ‘‘ جیسی کسی چیز کا قانونی وجود ہے اور کس بنیاد پر کسی ادارے کو اس طرح کا درجہ دیا جاتا ہے نیز کیا یہ درجہ مذکورہ اسکول کو حاصل ہے۔