چنئی، یکم فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) تمل ناڈو میں 17 سالہ اسکول کی طالبہ کی خودکشی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ہاسٹل وارڈن پر طالبہ کو ہراساں کرنے کا الزام ہے جس کے بعد اس نے خودکشی کر لی۔ مدراس ہائی کورٹ نے آج اس معاملے کی سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا ہے۔ 12ویں جماعت کے طالب علم نے 9 جنوری کو خودکشی کی کوشش کی تھی۔ بعد میں اس کی موت ہو گئی تھی۔
ہاسٹل وارڈن کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔گزشتہ ہفتے منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں متاثرہ لڑکی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ صحیح طریقے سے پڑھائی نہیں کر پا رہی ہے کیونکہ اس کے وارڈن نے اسے کمرے کی صفائی، حساب کتاب اور دیگر کام کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے کہا کہ اسے گریڈ گرنے کا خوف تھا۔ این ڈی ٹی وی اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔ ویڈیو کے مطابق لڑکی نے کہا کہ میں اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پا رہی تھی، میرے نمبر کم ہورہے تھے اس لیے میں نے زہر کھانے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے اکاؤنٹس کی دیکھ بھال سمیت دیگر تمام کام کرنا پڑتا تھا۔اس سے قبل لڑکی کی موت کے بعد بھی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ جس میں اس نے کہا کہ میرے والدین نے عیسائی مذہب قبول کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد مجھے ہراساں کیا گیا اور بدسلوکی کی گئی۔ویڈیو میں لڑکی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ دو سال قبل انہوں نے میرے والدین اور مجھ سے عیسائی مذہب اختیار کرنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ میری تعلیم کا خیال رکھیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں مذہب تبدیل نہ کرنے کا نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں یہ ممکن ہے۔ویڈیوز عدالت کے حوالے کر دی گئیں۔