نئی دہلی،11؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی مودی حکومت کو مختلف ایشوز پر آئینہ دکھاتے رہتے ہیں۔ کورونا ویکسین ہو، لاک ڈاؤن ہو یا ملک کی معاشی حالت کو بہتر کرنے کی بات ہو، ہر بار راہل گاندھی مرکزی حکومت کو صلاح دیتے رہتے ہیں۔ ساتھ ہی مودی حکومت کی پالیسیوں کو لے کر سوال بھی کھڑے کرتے رہتے ہیں۔ ایک بار پھر راہل گاندھی نے ملک میں بے روزگاری کی حالت، جی ڈی پی اور پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں کو لے کر مرکز کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹ کر لکھا ہے کہ ’’ملک کی جی ڈی پی کریش ہو رہی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ بی جے پی مزید کتنے طریقوں سے ملک کو لوٹے گی؟‘‘
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی پٹرول-ڈیزل پر بے تحاشہ ٹیکس لگائے جانے کو لے کر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے تازہ ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’وبا کے دوران مودی حکومت نے پٹرول-ڈیزل پر ٹیکس وصول کیا- 2.74 لاکھ کروڑ روپے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے ان (2.74 لاکھ کروڑ روپے) سے کیا کیا چیزیں عوام کو مل سکتی تھیں، اس کی تفصیل پیش کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان پیسوں سے پورے ہندوستان کو ویکسین (67 ہزار کروڑ)، 718 اضلاع میں آکسیجن پلانٹ، 29 ریاستوں میں ایمس اسپتال، اور 25 کروڑ غریبوں کو 6000 روپے کی مدد مل سکتی تھی، لیکن کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔
قابل ذکر ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف جمعہ کو کانگریس نے ملک بھر میں پٹرول پمپوں پر مظاہرہ کیا۔ ایک دن قبل کانگریس پارٹی کی طرف سے اس کا اعلان کیا گیا تھا۔ دہلی میں ہی درجن بھر مقامات پر کانگریس لیڈران نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کیا۔ کانگریس لیڈران گھوڑا گاڑی پر سوار ہو کر مودی حکومت کے خلاف یہ احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھے گئے۔