نئی دہلی،27/جون (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) ایس سی /ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کو 50 فیصد ریزرویشن دئیے بغیر ہی اساتذہ کی خالی جگہ پُر کرنے کے لئے چار یونیورسٹیوں کی طرف سے اشتہارات دیے جانے کا مسئلہ جمعرات کو راجیہ سبھا میں اٹھایا گیا اور چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے حکومت کو اس بارے میں غور کرنے کی ہدایت دی۔سپا کے جاوید علی خان نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر ایوان میں بحث ہوئی تھی اور آٹھ فروری کو انسانی وسائل و ترقی کے وزیر نے یقین دہانی کرائی تھی کہ 13 پوائنٹ روسٹر نظام پر روک لگا کر، 200 پوائنٹ والے پرانا نظام لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اعلی تعلیم والے عوامی اداروں میں اساتذہ کے عہدے پُرکرنے کے لیے پرانے نظام بحال کرنے کی خاطر مارچ میں حکومت نے آرڈیننس بھی جاری کیاتھا۔اس کے باوجود چار یونیورسٹیوں نے اساتذہ کی بھرتی کے لیے جواشتہارات دیے گئے ان میں دیگر پسماندہ طبقات کے لیے مناسب ریزرویشن انتظام نہیں تھا۔ جاوید علی خان نے پنجاب مرکزی یونیورسٹی، کرناٹک یونیورسٹی، تمل ناڈو یونیورسٹی اورمدھیہ پردیش کے امرکٹک میں واقع اندرا گاندھی قومی اسی ٹی یونیورسٹی نے اسسٹنٹ لیکچرر، ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر بھرتی کے لئے اشتہار دئیے۔ان اشتہارات میں دیگر پسماندہ طبقات کے لئے مناسب ریزرویشن نہیں تھا۔ مرکزی ریزرویشن نظام میں اجا کے لئے 15 فیصد کوٹہ اور درج فہرست ذاتوں کے لئے 7.5 فیصد کوٹے کا اور دیگر پسماندہ طبقات کے لئے 27 فیصد کوٹے کی فراہمی ہے۔سپا رکن نے حکومت سے پرانے ریزرویشن نظام بحال کرنے اور اس بات کی یقین دہانی کرنے کی درخواست کی کہ ریزرو طبقوں کو ان کا حق ملے نائیڈو نے ایوان کے لیڈر تھاورچندگہلوت سے کہا کہ وہ حکومت سے اس مسئلے کو دیکھنے اور حل کرنے کے لئے کہے۔