ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساور کر کو بھارت رتن کی سفارش پر کانگریس بی جے پی میں لفظی جنگ، بی جے پی کوڈسے کو بھی بھارت رتن دے سکتی ہے: سدارامیا 

ساور کر کو بھارت رتن کی سفارش پر کانگریس بی جے پی میں لفظی جنگ، بی جے پی کوڈسے کو بھی بھارت رتن دے سکتی ہے: سدارامیا 

Sat, 19 Oct 2019 20:21:03    S.O. News Service

بنگلورو، 19/ اکتوبر (ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے مرکز میں بر سر اقتدار بی جے پی کی طرف سے ساور کر کو بھارت رتن سے نواز نے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گاندھی جی کے قتل کی سازش میں شامل ساور کر کو بھارت رتن دینے کے بجائے بی جے پی کو چاہئے کہ گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو ہی بھارت رتن سے سرفراز کردے۔

 انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ساور کر کو بھارت رتن دینے کا جو موقف اپنایا ہے اس کی کانگریس شدید مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی کا قتل کرنے کی سازش میں کلیدی رول ادا کرنے والے ساورکر کو ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز دینے کے لئے بے قرار بی جے پی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ملک اور قومیت کے تئیں وہ کس حد تک پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں ساورکر کا کوئی رول نہیں تھا اور و ہ انگریزوں کی صفوں میں شمار کئے جاتے۔ گاندھی کے قتل کیس میں ثبوتوں کی کمی کے سبب ساورکر نے خود کو بچالیا۔

 سدارامیا نے مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کے بیان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستوں کے مابین پانی کی تقسیم کاری جیسے معاملات بات چیت کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ بات چیت اور اتفاق رائے کے بغیر کسی ریاست میں جا کر پانی بہانے کا بیان صرف ووٹ حاصل کرنے کا جھانسہ کہا جائے گا۔ ایڈیورپا نے یہ بیان شاید اس لئے دیا ہے کہ مہاراشٹرا کے عوام بی جے کو ووٹ دیں، لیکن اس معاملہ کی حقیقی اور زمینی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ 

بنگلورو میں کے پی سی سی صدر دنیش گنڈوراؤ نے ساور کر کو بھارت رتن دینے بی جے پی کے اعلان پر کہا کہ ساور کر ایک متنازعہ آدمی ہیں۔ ان پر گاندھی کے قتل کی سازش میں ملوث رہنے کا الزام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساورکر کی شخصیت پر کئی حلقوں سے سوالات اٹھائے جا چکے ہیں، اب انہیں بھارت رتن سے سرفراز کرنے بی جے پی کا اعلان درست نہیں۔ سدارامیا کے بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا نے ساورکر کو بھارت رتن دینے کے لئے بی جے پی کی سفارش کا دفاع کیا اور کہا کہ اگر کانگریس اقتدار پر ہوتی تو شاید وہ جناح کو بھارت رتن سے نواز نے کی سفارش کرتی۔ 


Share: