بنگلورو،19؍فروری(ایس او نیوز) بنگلوروشہر کے ڈی جے ہلی اورکے جی ہلی تشدد کے دوران رکن اسمبلی اکھنڈا سرینواس مورتی کے گھر کو آگ لگانے کے معاملہ میں گرفتار ہو کر حال ہی میں ضمانت پر رہا بی بی ایم پی کے سابق میئر سمپت راج کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کانگریس قیادت پر دباؤ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔
اکھنڈا سرینواس مورتی کی طرف سے سمپت راج کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کے لئے اے آئی سی سی جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا سے مانگ کے فوراً بعد اب سابق ریاستی وزیر اور چامراج پیٹ کے رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے بھی پارٹی قیادت سے مانگ کی ہے کہ سمپت راج کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اس ضمن میں جمعرات کے روز بنگلورو کے کمارکرپا گیسٹ ہاؤزمیں سرجے والا سے ملاقات کے بعد ضمیراحمد خان نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اکھنڈا سرینواس مورتی پارٹی کے ایک دیانتدار رکن اسمبلی ہیں اوراپنے حلقہ کے عوام میں ان کی کافی مقبولیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی تشدد کے دوران نوجوانوں کے مشتعل ہوجانے کا منظم طریقے سے فائدہ اٹھا کر اکھنڈا سرینواس مورتی کے مکان کو آگ لگا ئی گئی۔ اس سلسلہ میں پولیس اوراین آئی اے کی طرف سے چارج شیٹ بھی عدالت میں داخل کی جا چکی ہے۔ اس لئے اب کانگریس قیادت کو اس حرکت کے لئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس معاملہ میں سمپت راج کے خلاف پارٹی کی طرف سے ضرور کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رندیپ سرجے والا کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس سلسلہ میں کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار سے بھی مانگ کی ہے اور انہوں نے بھی مناسب کارروائی کا یقین دلایا ہے۔ اس سے پہلے شیو کمار نے کہا تھا کہ سمپت راج کے خلاف ثبوت نہیں ہیں۔ اب جبکہ سمپت راج کو پولیس نے گرفتار کیا اور وہ جیل بھی جاچکے ہیں اس معاملہ میں چارج شیٹ بھی داخل ہو چکی ہے۔ اس لئے اب ان کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں پلی کشی نگرکے رکن اسمبلی اکھنڈا سرینواس مورتی کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جے ہلی تشدد اور سرینواس مورتی کا گھر جلانے کے معاملہ میں سمپت راج کے رول کو پولیس اور این آئی اے نے ثابت کیا ہے۔ پہلے کے پی سی سی صدر نے کہا تھا کہ ان پر الزام ثابت نہیں ہوا۔ اب جبکہ چارج شیٹ میں ثابت ہو گیا ہے سمپت راج کے خلاف کارروائی کرنے میں دشواری نہیں ہو نی چاہئے۔