کاروار 31؍جولائی (ایس او نیوز) مانسون کی آمد پر گہرے سمندر میں ماہی گیری کرنے پر دو مہینے کے لئے جو سرکاری پابندی لگی ہے اب وہ ختم ہورہی ہے اور مچھیرے یکم اگست سے اپنی کشتیاں سمندر میں اتارنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔
چونکہ اس مرتبہ بارش بہت زیادہ مقدار میں ہوئی ہے اور ہوائیں بھی تیز چل رہی ہیں اس لئے ماہی گیروں کوزیادہ سے زیادہ مچھلیاں پکڑنے میں کامیابی کی توقعات ہیں۔عام طور پر موٹر بوٹ کے ذریعے مچھلیاں پکڑنے والے اگست سے اکتوبر تک سمندر میں اٹھتی ہوئی موجوں کا اندازہ لگانے کے بعد صبح 6بجے مچھلی کے شکار پر نکلتے ہیں۔نومبر کے بعد صبح 3بجے سے ہی کشتیاں سمندر میں اتاری جاتی ہیں۔جبکہ ٹرالر کشتیوں پر ماہی گیری کرنے والے دو تین دن تک سمندر میں ہی رہ کر مچھلیوں کا شکار کرتے ہیں اور پھر ذخیرہ کی گئی مچھلیوں کے ساتھ کنارے پر لوٹتے ہیں۔
ضلع شمالی کینرا کے ماہی گیروں کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کنارے پر مچھلیاں ذخیرہ کرنے کے لئے مطلوبہ تعداد میں فریزر مراکز اور فش مِل کی سہولت نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں کے مچھیروں کو اپنی مچھلیاں لے کر گوا، منگلورو اور ملپے کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ماہی گیری کے لئے استعمال ہونے والی کشتیوں کی لاگت کے بارے میں بتایا جاتاہے یہ 25سے 50لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ جبکہ بالکل ہی جدید سہولتوں والی جو کشتیاں آج کل سمندر میں اتاری جارہی ہیں ان کی قیمت 70لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔
پچھلے کچھ دنوں سے مچھلیوں کو سڑنے سے محفوظ رکھنے کے لئے مضر صحت کیمیکل فارمولین استعمال کیے جانے کی بات سامنے آنے پر ریاست گوا میں دوسری ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنے پر پابندی لگادی گئی تھی۔پتہ چلا ہے کہ یکم اگست کے بعد یہ پابندی ہٹا دی جائے گی۔عوام کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے میں حالانکہ فارمولین کے استعمال کا کوئی ثبوت نہ ملنے کی بات فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کہی گئی ہے، پھر ماہی گیروں کو چاہیے کہ وہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والے طریقے اپنائے بغیر عوام کو تازہ مچھلیاں فراہم کریں۔
ضلع شمالی کینرا میں ماہی گیری سے متعلق اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ یہاں پر 6,436دیسی یا روایتی کشتیاں،1,115موٹر بوٹس اور 2,641مکمل مشینری والی یعنی جملہ 10,192 کشتیاں ماہی گیری کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔محکمہ ماہی گیری کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گہرے سمندر میں لائٹ فشنگ کرنے والے 104کشتیوں کے مالکان پر فی کس 30ہزار روپے جرمانہ لگایا گیا ہے۔اس میں سے صرف 2کشتیوں کے مالکان نے جرمانہ ادا کیا ہے۔30.60لاکھ روپے جرمانہ ادا نہ کرنے والے بقیہ102 کشتی مالکان کے خلاف اقدام کرتے ہوئے محکمہ نے انہیں رعایتی دام پر ڈیزل کی فراہمی روکنے اور انہیں ڈیزل پاس بک نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔محکمہ ماہی گیری کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ جرمانے کی اس بقیہ رقم کو لازمی طور پر وصول کرنے کے احکام ضلع ڈپٹی کمشنر نے دے رکھے ہیں۔