نئی دہلی،13؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) دہلی ہائی کورٹ نے جموں و کشمیر کے کٹھوا ضلع میں اجتماعی عصمت دری کے بعد مار دی گئی آٹھ سالہ بچی کی شناخت ظاہر کرنے کے معاملے میں آج بہت سے ذرائع ابلاغ ہاؤسوں کو نوٹس جاری کئے۔ساتھ ہی کہا کہ آگے سے کسی خبر میں بچی کی شناخت ظاہر نہیں کی جانی چاہئے۔ چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس سی ہری شنکر نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آئی خبروں کی از خود نوٹس لیتے ہوئے میڈیا ہاؤسوں سے جواب مانگا ہے کہ اس معاملے میں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔کشمیر کے بکروال کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی یہ بچی اپنے گھر کے پاس سے 10جنوری کو لاپتہ ہو گئی تھی۔ایک ہفتے بعد اس کی لاش اسی علاقے سے ملی۔معاملے کی تحقیقات کر رہی ریاستی پولیس کی کرائم برانچ نے معاملے میں اسی ہفتے سات ملزمان کے خلاف اہم چارج شیٹ اور ایک نوجوان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے۔چارج شیٹ میں دل دہلا دینے والا واقعہ بتایا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بچی کو اغوا کر کے اسے نشہ دیا گیا اور قتل کرنے سے پہلے ایک مذہبی مقام پر اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہوئی۔