بنگلورو،14؍اگست(ایس او نیوز) کرناٹک اور گوا کے درمیان دیرینہ مہادائی تنازعے کے سلسلے میں ٹریبونل نے آج اپنا قطعی فیصلہ سناتے ہوئے کرناٹک کو پینے کے لئے 5.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی ، آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کے لئے 8؍ ٹی ایم سی فیٹ پانی دینے کا فیصلہ صادر کیا۔اس فیصلے کے بعد پچھلے چند سالوں سے مسلسل احتجاج میں مصروف شمالی کرناٹک کے کسانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔
کرناٹک نے ٹریبونل سے 7.5ٹی ایم سی فیٹ پانی پینے کے لئے مانگ کی تھی جس میں سے 5.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی مہیا کرایا گیا ہے۔ مجموعی اعتبار سے اگر اس فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو مہادائی مسئلے پر جاری قانونی لڑ ائی میں کرناٹک کو کچھ حد تک کامیابی ضرورملی ہے، لیکن فیصلے کو مکمل طور پر اطمینان بخش بھی قرار نہیں دیاجاسکتا۔ مہاراشٹرا اور گوا نے ٹریبونل کی طرف سے کرناٹک کو پانی دئے جانے کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے خلاف قانونی جنگ جاری رکھنے اور فیصلے کا چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ٹریبونل نے آج اپنے فیصلے میں شمالی کرناٹک میں پینے کے پانی کی قلت کے مسئلے کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرناٹک کی مانگ کے مقابل چار اضلاع میں پینے کے پانی کی غرض سے 5.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی جاری کرنا منظور کیا ہے، اس میں سے 4 ٹی ایم سی فیٹ پانی ملاپربھا ندی میں اور 1.5ٹی ایم سی فیٹ پانی مہادائی ندی میں بہایا جائے گا۔ ٹریبونل نے دریائے مہادائی کا8؍ ٹی ایم سی فیٹ پانی آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کے لئے استعمال کرنے کی کرناٹک کو اجازت دی ہے۔ دریائے مہادائی کے 200 ٹی ایم سی فیٹ پانی میں سے گوا صرف 9 ٹی ایم سی فیٹ پانی استعمال کررہاتھااور باقی سارا پانی سمندر میں ضائع ہورہا ہے۔ اس میں سے کرناٹک سے گزرنے والے 45ٹی ایم سی فیٹ پانی میں سے 14.98ٹی ایم سی فیٹ پانی استعمال کرنے کا دعویٰ ٹریبونل کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس دعوے کو کافی حد تک تسلیم کرتے ہوئے آج ٹریبونل نے کرناٹک کو انصاف دیا ہے۔ اس دوران ریاستی وزیر برائے تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا نے ٹریبونل کے فیصلے کو کرناٹک کے حق میں نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرناٹک نے پہلے ہی پانی کی بہت کم مانگ رکھی تھی اس کے باوجود بھی اس کی مانگ کو گھٹا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ریاست کے بی جے پی قائدین کو چاہئے کہ فوری طور پر حرکت میں آئیں اور وزیر اعظم مودی سے مداخلت کی گزارش کرتے ہوئے ان پر دباؤ ڈالیں کہ کرناٹک کو انصاف دلائیں۔ دوسری طرف اپوزیشن لیڈر بی ایس یڈیورپا نے ٹریبونل کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت یہ یقینی بنائے کہ کرناٹک کے حصے میں جو پانی آیا ہے اس کا بھرپور استعمال کیا جائے اور اس کے ذریعے شمالی کرناٹک کے عوام کو پانی کی جو تکلیف تھی اسے دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے ۔ ٹریبونل کے فیصلے کے مطابق کرناٹک کے حصے میں جو 13.5ٹی ایم سی فیٹ پانی آیا ہے اس میں سے چار ٹی ایم سی فیٹ پانی پینے کے لئے ملاپربھا ندی کی طرف کلسا بنڈوری کینال سے بہایا جائے گا۔ مہادائی سے آٹھ ٹی ایم سی فیٹ پانی بجلی کی پیداوار کے لئے استعمال میں آئے گا۔ کلسا کینال میں اس کا 1.12ٹی ایم سی فیٹ پانی بہایا جائے گا جبکہ بنڈوری میں 2.18ٹی ایم سی فیٹ پانی بہایا جائے گا۔
مہادائی تحریک کو لے کر گزشتہ کئی سالوں سے احتجاج میں مصروف کارکنوں نے ٹریبونل کے فیصلے پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی سے ملاقات کی جائے گی اور ان سے گزارش کی جائے گی کہ ٹر یبونل کے اس فیصلے کے مطابق پانی کی فراہمی کے لئے حکومت اپنے سیاسی عزم پر قائم رہے اور جلد از جلد مہادائی کے آب پاشی کے منصوبوں کو پورا کرکے یہاں کے لوگوں کے لئے راحت کا سامان مہیا کرائے۔کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤ نے بھی ٹریبونل کے فیصلے کو کرناٹک کے حق میں خوش آئند قرار دیا اور کہاکہ اس فیصلے کے بعد شمالی کرناٹک کے عوام اور کسانوں کو کافی راحت پہنچی ہے۔ ریاستی مخلوط حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ شمالی کرناٹک کے لوگوں کو پانی کی پریشانی سے جلد ازجلد نجات ملے۔ اس دوران مہاراشٹرا اور گوا کے وکیلوں نے کرناٹک کو 13.5 ٹی ایم سی فیٹ پانی فراہم کرنے ٹریبونل کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کی جائے گی۔