پالگھر،27جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) وزیر اعظم نریندر مودی کے اہم پروجیٹ بلٹ ٹرین کے خلاف تمام مخالف جماعتوں نے محاذکھول دیاہے۔ 509 کلومیٹر طویل ممبئی اور احمد آباد کے درمیان مجوزہ بلٹ ٹرین پروجیکٹ کے خلاف مہاراشٹر اور گجرات کے کسانوں نے ممبئی سے متصل پالگھر میں 3جون کو اس منصوبے کے خلاف متحد ہوکرمظاہرہ کیاہے۔ بلٹ ٹرین مخالف نامی عوامی منچ کے کل جماعتی پرگرام میں کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، شیوسینا، مہاراشٹر نونرمان سینا اور سی پی آئی (ایم) شامل ہوئے۔دراصل بلٹ ٹرین کا 110 کلومیٹر کلومیٹر کاکوریڈورپالگھر کے ذریعے گزرناہے۔ پالگھر قبائلی غلبہ والا علاقہ ہے اور اس علاقے کے کسان 1,10,000 کروڑ روپے کی بلیٹ ٹرین منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت کو اس سکیم کے لئے 1400 ہیکٹر زمین حاصل کرنی ہے، جس کے لئے حکومت,000 10 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے صدراشوک گھاؤلے نے بتایاکہ ممبئی اور احمدآباد کے درمیان بلٹ ٹرین چلانے کا جومنصوبہ ،وہ ایک متنازع منصوبہ ہے۔ اس کے لئے گجرات کے ساتھ تھانے اور پالگھر میں زمین کے حصول کے لئے کسانوں کو نوٹس دیا جاناشروع ہوگیا ہے۔ لینڈ رائٹس موومنٹ کے تحت 3 جون کوبی جے کوچھوڑکر تمام جماعتوں کے لوگ آئے تھے۔گھاؤلے نے کہا کہ بلیٹ ٹرین کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ممبئی سے احمد آباد ہوائی جہاز سے ایک گھنٹہ لگتا ہے اور بلیٹ ٹرین سے تین گھنٹہ لگے گا اوربلیٹ ٹرین میں تقریبا 4000 روپیہ خرچ ہو گا، جو عام آدمی کی حیثیت سے باہر ہے۔ اس سے سستا ہوائی جہازکا سفر ہے، جب تک کہ ٹرین بنے گی، کرایہ دو گناسے زائد ہو جائے گا، اس لیے یہ ایک غیرضروری منصوبہ ہے۔گھاؤلے کہتے ہیں کہ مجھے وزیر اعظم کی منشاء پرشک ہے کہ وہ اس منصوبے کوترقی کے ساتھ جوڑکردیکھ رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ بلیٹ ٹرین اسکیم اصل میں مودی حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال کرناچاہ رہی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اس سکیم کے تحت عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا، بلکہ صنعت کاروں کے ساتھ ٹھیکیداروں کو فائدہ ہوگا۔ اس منصوبہ میں 110000 کروڑ کاخرچ ہوناہے، حکومت کو یہ پیسہ عوام کے بنیادی سہولیات کے لئے خرچ کرنا چاہئے۔انہوں نے الزام لگایا یہ ہے کہ حکومت نے اس منصوبے کے بارے میں کسانوں اور قبائلیوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایاہے اور نہ ہی حکومت نے زمین حاصل کرنے کے لئے حالات کے بارے میں معلومات فراہم کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قبائلیوں کے لئے ان کی زمین سب کچھ ہے اور حکومت ترقی کے نام پر پانی، جنگل اور زمین پر قبضہ کر رہی ہے۔دراصل حکومت قبائلیوں کو کچھ پیسہ لے کر اپنی شناخت کو چھین کر انہیں شہر کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے، حکومت انہیں ترقی کے راستے سے شہر کا غلام بنانا چاہتی ہے۔گھاؤلے نے یہ بھی بتایا کہ 3 مئی کو 40000 کسانوں نے ممبئی ۔وڈودارا ہائی وے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ یہاں بھی اسی طرح حکومت زمین کو حاصل کرنے کاکام کر رہی ہے، جہاں قبائلی کسانوں کو بھی نہیں معلوم ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔گھاؤلے نے واضح کیا ہے کہ تمام غیر بی جے پی پارٹیاں مل کر بلٹ ٹرین سکیم کے خلاف مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ ریلوے کا نظام بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہے۔پہلے ریلوے نظام بہتر بنانا چاہئے جو عام عوامی سواری ہے، بلٹ ٹرین امیر لوگوں کی سواری ہے، جو ہوائی جہاز سے بھی چل سکتی ہے۔