گلبرگہ،12؍دسمبر(ایس او نیوز؍شاکر ایم حکیم) جنا وادی مہیلا سنگھٹن سے جڑی ہوئی کارکنان نے جمعرات کے دن گلبرگہ شہر میں کرناٹک اسمبلی میں حال ہی میں منظور شدہ مخالف ذبیحہ گائے بل کی کاپیاں احتجاج کے طور پر نذر آتش کردیں ۔ ان احتجاجی خواتین کی قیادت جنا وادی مہیلا سنگھٹن کی قائد کے نیلا کررہی تھیں ۔
احتجاجیو ں نے جگت سرکل گلبرگہ پر ریاستی حکومت کے اقدام کے خلاف علامتی احتجاج کیا ۔ ان احتجاجیوں نے بی جے پی کے خلاف نعرے بلندکئے ۔ محترمہ کے نیلا کاکہنا تھا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادوں کے خلاف ہے ۔ کیوں کہ دستور ہند میں ہر ایک ہندوستانی شہری کو اپنی پسند کی غذا استعمال کرنے کا حق دیا گیا ہے ۔ یہ بل نہ صرف گائے کے ذبح کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے بلکہ بیل، بچھڑا، بھینس سبھی پر امتناع عائد کرتا ہے ۔ اس بل کے سبب دیہی معیشیت متاثر ہوجائیگی ۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ یہ بل صرف مسلمانوں اور دلتوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لئے منظور کیا گیا ہے ۔ جب کہ ان کارپویٹ کمپنیوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے جو گائے کے گوشت کے ایکسپورٹ کا کاروبار کرتی ہیں ۔ یہ بل غریبوں کو اپنے چوپائے ذبح کرنے اور انھیں ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کرنے پر بھی پابندی عائد کرتا ہے ۔ یہ بل ان کارپوریٹ کمپنیوں پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کرتاجو گائے کا گوشت ٹرانسپورٹ کیا کرتی رہی ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ کس طرح حکومت غریب ذاتوں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کی مددکررہی ہے ۔ کے نیلا نے کہا کہ اس بل کے سبب غنڈہ عناصر اور غیر سماجی عناصر جیسے بجرنگ دل وغیرہ کی سرگرمیوں کو جو اقلیتوں اور دلتوں پرگائے بچاءو مہم کے بہانہ سے حملے کرتے ہیں ان کو بھی قانونی حیثیت حاصل ہوجائیگی ۔
ذبیحہ گائے بل کی خلاف ورزی کرنے والے احتجاجیوں نے ان زرعی ترمیمی بلس کی بھی مخالفت کی جو اسمبلی میں منطور کئے گئے ہیں ۔ احتجاجیوں کا کہناتھا کہ یہ زرعی ترمیمی بلس زراعت کے کارپوراٹائیزیشن میں مددگار ثابت ہونے کی بنیاد پر منظور کئے گئے ہیں ۔