ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پی ایف آئی پر کیس مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے لیے گھڑا گیا ہے: سینئر وکیل ایس. بالن کا بیان

پی ایف آئی پر کیس مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے لیے گھڑا گیا ہے: سینئر وکیل ایس. بالن کا بیان

Mon, 13 Jul 2026 20:17:09    S O News

نئی دہلی، 13 جولائی (ایس او نیوز) نئی دہلی پٹیالہ ہاوس کورٹ میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایس. بالن نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ایف آئی کے خلاف مقدمہ "محض تصور پر مبنی" ہے اور "ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے لیے گھڑا گیا ہے۔" انہوں نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تفتیش پر بھی سخت اعتراضات اٹھائے۔

ایس. بالن نے یہ بیان اس وقت دیا جب خصوصی این آئی اے عدالت نے ہفتہ کے روز پی ایف آئی کے سابق چیئرمین ای. ابوبکر سمیت تنظیم کے 20 ملزمان کے خلاف باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کی۔ ملزمان پر غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) قانون (یو اے پی اے) سمیت مختلف دفعات کے تحت مجرمانہ سازش، ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کی منصوبہ بندی اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت 29 جولائی سے شروع ہوگی، جس کے دوران این آئی اے اپنے شواہد پیش کرے گی۔

عدالتی کارروائی پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ایس. بالن نے مقدمے کی بنیاد پر ہی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا، "ایف آئی آر کے کالم نمبر 4 میں جائے وقوع کا کوئی ذکر نہیں ہے، جبکہ مبینہ واقعے کی تاریخ بھی خالی چھوڑی گئی ہے۔ یہ ایسا مقدمہ ہے جسے ریاست نے، اپنی معلوم وجوہات کی بنا پر، ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ تنظیم تھی اور اس کی تمام سرگرمیاں اور مالی لین دین کھلے اور شفاف انداز میں انجام دیے جاتے تھے۔

ایس. بالن نے کہا، “اگرچہ پی ایف آئی ایک سیکولر تنظیم تھی، لیکن اسے ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر پیش کیا گیا۔ جب ملزمان کو گرفتار کیا گیا، اس وقت پی ایف آئی ایک قانونی تنظیم تھی۔ بعد میں اس پر پابندی عائد کی گئی۔ پابندی کے بعد بھی اسے دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ صرف ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیا گیا۔”


Share: